تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 258 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 258

۲۵۶ سزاسنائیں اور دیکھیں کہ کسی قسم کے تاثر کا اظہار ہوتا ہے۔ایک بعد دو سپر ایک فائل ان کو ملی جس میں ایک قیدی کے خلاف فیصلہ درج تھا اور کوئی افسر فوری طور پر موجود نہیں تھا۔انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور خود جیل پہنچ گئے۔فائل سے نام پڑھا۔یہ نام گرامی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔یہ کیپٹن ان سے بالکل واقف نہ تھے علیک سلیک کے بعد چارج شیٹ اور مزا انگریزی میں پڑھ کر سنائی ان کیپیٹین صاحب کے دماغ میں تھا کہ دیکھیں ان صاحب کا ردعمل دیگر لوگوں کی نسبت کیسا ہو گا جب یہ کیپٹین صاحب ساری کار والی انگریزی میں سنا چکے تو حضرت مرزا صاحب نے جانے کی اجازت چاہی۔نہ تعجب نہ حیرانگی۔دیگر اہٹ نہ کوئی تاثر نہ فکر، نہ نظم۔کیپٹن صاحب تو کسی عجیب و غریب رد عمل کے منتظر تھے۔نورا بولے آپ شاید انگریزی نہ سمجھے ہوں لیکن اُردو میں پڑھ کر سناتا ہوں۔اس پر اس کو وقار اور متوکل انسان نے فرما یا کیپٹن صاحب آپ کی مہربانی میں آکسفورڈ کا گریجویٹ ہوں تو الٹ ان کیپٹین صاحب پر کپکپی کا عالم طاری ہو گیا۔سزا اور جرمانہ بہت شدید تھے گو جرم صرف ایک خاندانی زیبائشی خنجر کو گھر میں رکھنے کا تھا۔اسے حضرت سیدہ نواب مبارک بیگم جنت کے دردناک اشعار ان بزرگ شخصیتوں کی اسیری کے اندوہناک سانحہ پر حضرت سیدہ نواب مبارک بیگم صاحبہ نے درج ذیل در دناک اشعار کہے له الفضل در اکتوبر ۱۹۸۳ ۲