تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 9
ان کا فریب نہ چل سکے گا لیکن افسوس ان لوگوں پر ہے جو لا علمی اور نادانی کے باعث ان غداروں کی سازش کا شکار ہو گئے۔جو اُن کے دھوکے میں آکر اپنی قوم اور ملک کا اور خود اپنا مفاد بھول گئے اور اُن کی شیطنت کا آلہ کار بن گئے ک کہا :- وزیر اعلی صاحب نے اس کے بعد ۲۰ مارچ ۱۹۵۳ء کو شجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس تحریک کے علمبرداروں نے نام نماد راست اقدام جسے میں کھلی بغاوت کہتا ہوں شروع کر کے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔تحریک کے پہلے تین چار دنوں میں کوئی خاص ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا لیکن بعد ازاں یہ تحریک پاکستان دشمن سیاسی علمی اور شرپسند غنڈوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے ۳- گورنر پنجاب جناب ابراہیم اسمعیل چندریگر نے دو مارچ ۱۹۵۳ ء کو ایک نشری تقریر کی جس میں اس ایجی ٹیشن کو کھلی بغاوت قرار دیے ہوئے کہا :- " بدامنی کی یہ تحریک بظاہر ختم نبوت کے تحفظ کے لیے شروع کی گئی لیکن جو مطالبات اس تحریک کے نام پر پیش کئے گئے وہ سراسر سیاسی تھے۔عوام کو دھوکہ دینے کے لیے انہیں مذ آبی رنگ دیا گیا۔۔۔۔۔اس مسئلہ کو بدامنی اور قانون شکنی کی دلیل بنانا اور ڈائر یکٹ ایکشن کی ابتدا کہ نا ایک خطر ناک سازش تھی جس کی بیشتر ذمہ داری جماعت احرار پر عائد ہوتی ہے۔یہ وہ جماعت ہے جو شروع سے پاکستان کی دشمن رہی اور قیام پاکستان سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا تر یہ ہو جو اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا ہو۔۔۔۔شرپسند عناصر نے نصرف صوبے کے امن وامان کو تہ و بالا کرنے کی کوشش کی بلکہ قومی اور انفرادی نقصانات کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع کر دیا۔افسوس کا مقام ہے کہ یہ سب کچھ ناموس رسول اور اسلام کے نام پر کیا جارھا ے پمفلٹ پنجاب میں امن و امان قائم رکھئے " صدا نام ناشر محکہ تعلقات عامہ پنجاب ومد مارچ ۱۹۵۳ء سے " اختبار نوائے وقت لاہور ۲۲ مارچ ۰۶۱۹۵۳