تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 178
164 سے مسلے تھا۔خیر جلوس چلا گیا۔جلوس کے بعد میں پولیس چوکی میں دوڑ گیا۔اس وقت چوکی میں صرف و دسپاہی اور ایک حوالدار تھے۔میں نے حوالدار کو کہا کہ جمعہ کے بعد ہمیں قتل کر دیا جائیگا آپ کوئی انتظام کریں۔اس نے کہا میں کچھ نہیں کر سکتا میرے پاس کچھ نہیں۔آپ اپنے گھر جاویں اور اپنا خور انتظام کریں۔اس کے بعد میں اپنے پریذیڈنٹ صاحب کے پاس اُن کے مطلب میں گیا۔اس وقت اُن کے پاس بعض لوگ بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب تم قتل کیسے جاؤ گے۔صرف بچنے کی صورت یہی ہے کہ مسلمان ہو جاؤ یا کہیں چھپ جاؤ۔لیکن جہاں چھپو گے ان کی بھی خیر نہیں۔یہ باتیں سن کر میں گھر آ گیا۔اور گھر والوں کو بتایا کہ مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ڈاکٹر بخاری نے مجھے اس سے پیشتر کہا تھا کہ خطرہ کی صورت میں میرے گھر آ جاؤ۔چنانچہ ہم نے اُن کی ہمشیرہ کے کہنے پر اُن کے گھر چلے گئے اور اپنا گھر خالی چھوڑ دیا۔- حکیم مختار احمد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ شاہدرہ نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا ہے مورخہ 4 مارچ کو جماعت احمدیہ شاہدہ پر دشمنوں نے اچانک حملہ کیا اور تمام احمدیوں کے گھروں کو گھیر لیا۔۔۔۔۔قریبا دس بارہ ہزار کا مسلح جلوس نکلا جو بندوقوں، چھروں پر چھیوں اور آگ لگانے کے سامان سے مسلح تھا۔تمام رستے انہوں نے بند کر دیئے تھے اور پولیس مقامی اُن کی ہمنوا تھی۔کوئی چارہ نہ دیکھتے ہوئے میرے غیر احمدی چند دوستوں نے مجھے کہا کہ اس وقت بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم باہر جا کر لوگوں کو کہتے ہیں کہ حکیم مختاب احمد ہمارا اہم خیال ہو گیا ہے جب ہم حالات بہتر دیکھیں۔تو پھر تم کو باہر بلا لیں گے تم باہر آ جانا۔چنانچہ آدھ گھنٹہ کے بعد مجھے باہر بلایا گیا۔میرے مکان سے باہر آتے ہی ان لوگوں نے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔(حکیم مختار احمد زندہ باد) اس آواز نے تمام شہر میں سکون پیدا کر دیا اور لوگوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔پھر مجھے ایک جامع مسجد میں لے گئے میرے رفقا ر نے وہاں بھی خود ہی شور مچا دیا کہ حکیم مرزائی نہیں رہا۔پھر مجھے کہاگیا کہ جمعہ کا خطبہ پڑھو۔چنانچہ میں نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا۔اس میں میں نے یہ کہا کہ میں رسول کریم صلعم کو خاتم النبیین مانتا ہوں اور کار پڑھ کر کہا اس کلمہ کا قائل ہوں۔اس کے علاوہ احمدیت کے خلاف یا حضرت مسیح موعود کے