تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 177 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 177

160 مقفل کر کے اپنے بھائی کے گھر جانا پڑا۔لوگوں نے ان کی چھت پر سے ہوکر اندرونی تالا توڑا۔اور سامان نکال کرے گئے۔شیخ محمد علی صاحب انبالوی کے ایک خط سے پتہ چلتا ہے کہ : لاہور میں ایک احمدی حوالدار عبد الغفور صاحب ولد الہی بخش رساکن موضع اول خیر کوٹ شہاب دین شاہدرہ) ڈیوٹی کے دوران ۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو شہید کر دیئے گئے۔اس شہید کے چھوٹے بھائی عبد الحمید صاحب قادیان میں درویش تھے۔شاہدرہ کے واقعات لاہور کے نواحی علاقوں میں سے ایک مشہور قصبہ شاہدرہ ہے۔وہاں کے نہایت ہی کمزور۔بے لیں۔اور لاچار احمدیوں کے ساتھ جس قسم کا مستند و از سلوک ہوا۔اس کے لیے انہی جمہور اور مظلوم لوگوں میں سے دو اصحاب کی مندرجہ ذیل چھٹیاں پڑھ لینا کافی ہوگا۔ماسٹر غلام محمد صاحب ٹیچر ہائی سکول شاہدرہ نے لکھا کہ :- دور اور مارچ کو ہمیں صبح سے ہی خبریں آنی شروع ہوگئی تھیں کہ جمعہ کے بعد شاہدرہ کے احمدیوں کو قتل کر دیا جائے گا اور ان کی عورہ توں کی بے حرمتی کر کے قتل کر دیا جائے گا۔اور اس مطلب کے لیے لاہور سے بھی مولویوں کا جتھہ آئے گا۔ابھی جمعہ کا وقت نہیں ہوا ست که بازار سے شور اُٹھا کہ مجھہ آگیا ہے۔میں اس وقت پولیس چوکی کی طرف جارہا تھا اور ہسپتال کے موڑ پر تھا۔چنانچہ شور سن کر واپس آ گیا۔بال بچوں کو اطلاع دی جتھہ آیا ہے۔نعرے لگ رہے تھے۔ظفر اللہ مردہ باد۔ناظم الدین مردہ باد۔ایک مصنوعی جنازہ چارپائی پر اٹھایا ہوا ہے۔تھا اور ہائے ہائے کہ رہے تھے۔میرے مکان کے دروازے کو اس قدر زور زور سے دھکے دیئے کہ اس کے قبضے اکھڑ گئے اور دروازہ پر پتھر اور اینٹیں زور زور سے چلائی گئیں بخش گالیاں دے رہے تھے۔اس قدر گالیاں اور ایسی گالیاں کہ اس سے پیشتر ایسی مکروہ گالیاں میرے کانوں نے نہ سنی تھیں میری حویلی کی دیواروں کی اینٹیں اکھاڑ کر کافی دیوار گرادی۔دو دفعہ جلوس آیا اور مکروہ حرکتیں کرتا رہا اور کہتا رہا کہ جمعہ کے بعد تم کو قتل کر دیا جائے گا ورنہ مرزا کو چھوڑ دو اور مسلمان ہو جاؤ۔یہ جلوس لیے لیے چھروں اور کلہاڑوں سے