تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 176
16M کے غیر احمدی بڑے بھائی کو محض اس لیے مارا پیٹا گیا کہ وہ ان کے بال بچوں کو محفوظ جگہ پہنچانے آئے تھے میستری محمد اسماعیل صاحب لازم ریلوے کا سامان لوٹ لیا گیا اور دو بھینسیں کھول کر کے گئے۔ایک طالب علم عبد الرشید صاحب ولد ماسٹر چراغ دین صاحب نبی پورہ میں رہتے تھے۔وہ اپنی بھاوج اور اس کے بچوں کو محفوظ جگہ پہنچانے کے لیے گھر جا رہے تھے کہ راستہ پر اکستی توے آدمیوں کے ایک ہجوم نے حملہ کر کے اتنا نہ دو کوب کیا کہ وہ بے چارے گر گئے۔قریب تھا ان کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا جاتا کہ کسی نے ان لوگوں سے کہ دیا کہ ملڑی آگئی اس پر وہ لوگ بھاگ گئے اور اس معصوم بچے کی جان بچ گئی۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب میں میاں عبد الحکیم صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کنج میخوره کی و غیر احمدی والدہ صاحبہ قتل کر دی گئیں اور روپیہ پیسہ اور مال داسباب لوٹ لیا گیا۔کرم ماسٹر منظوراحمد صاحب کی درد ناک شہادت کے بعد بیاں فسادات نہ ور باغبان پورہ پکڑے گئے اور تھانے والوں نے کہا کہ عوام بھرے ہوئے ہیں۔ہم کچھ درد نہیں کر سکتے اس پر بعض دوست اپنے گھروں میں رہے اور بعض دوستوں نے اور جگہ پناہ لی۔جتھے آتے اور مکانوں پر حملہ کرتے اور قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دیتے تھے۔ان لوگوں کے پاس تلواریں ، یہ چھیاں، مٹی کا تیل اور لاٹھیاں ہوتی تھیں۔اس حلقہ میں جن احمدیوں کا سامان لوٹا گیا ان کے نام یہ ہیں : مستری محمد اسماعیل صاحب۔ماسٹر منظور احمد صاحب شہید - فضلدین صاحب - خدا بخش صاحب اس حلقہ میں احمدیوں کے مالی نقصان کی تفصیل یہ ہے کہ محمد یسین صاحب فیروز پوری دھرم پورہ اپنا مکان بند کر کے دوسری جگہ چلے گئے تھے۔ان کے جانے کے بعد ان کے مکان میں ریشمی پارچات، نقدی اور کچھ برتن اور راشن چوری کر لیا گیا۔محمد رفیق صاحب کفش سانہ کی دکان لوٹی گئی اور کچھ سامان با ہر نکال کر نذر آتش کر دیا گیا۔بابو غلام محمد صاحب ریٹائر ڈ کلرک اسٹڈیفنس ڈپو کی دکان میں موجود ایف اے۔بی اے کی کورس کی تمام کتابیں تلف کر دی اور اکثر کم کر دی گئیں۔اور پرچون کی دکان کی مختلف اشتہار لوٹ لی گئیں۔شام سندر گلی نمبر میں محمد یاسین خاں صاحب اکیلے احمد ہی تھے جنہیں فسادات کے دوران اپنا مکان