تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 175 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 175

مورخه در مارچ کو مستری صاحب مع ماسٹر غلام نبی صاحب مصری شاہ کے تھانہ میں گئے اور کہا کہ ہماری حفاظت کے لیے کیا انتظام کر سکتے ہیں۔جواب ملا کہ ہم تمہاری کوئی حفاظت نہیں سکتے ہمیں تھانہ سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں تم یہاں سے آدھ گھنٹڈ کے اندر اندر نکل جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے اس کے بعد یہ لوگ اپنے رشتہ داروں کی مدد سے نکلے بہت سے لوگ ہا تھوں میں چھڑے لے کہ اُن کے قتل کے لیے بیٹھے تھے۔فتنہ پر دانوں نے ان کے مکان کو آگ لگا دی جو مستری صاحب کے غیر احمدی والدین نے سمجھا دی۔سلطان پوره سیخ فیروز دین صاحب اور عبدالحمید صاحب کے کارخانہ کا نقصان کیا گیا۔اس محلہ میں صوفی عطاء اللہ صاحب کا مکان ، جو گلی با عمر دین روڈ پر ) مله دوستن پوره واقع مقاغارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔۔حلقہ گنج مغلپورہ مار چ ہ ہیں کہ بلا کا منظر پیش کر رہا تھا۔جہاں کئی گنج مغلپوره احمدیوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا۔سب سے پہلا واقعہ ماسٹر منظور احمد صاحب کی شہادت کا رونا ہوا۔اس کے اگلے روز احمدیوں کے گھروں پر پتھر پھینکنے اور گالیاں دینا شروع کی گئیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ احدی اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔14 مارچ کی صبح کو قلعه راج گڑھ کے ایک نہایت مخلص احمد می مکرم محمد شفیع صاحب بیت الذکر مغل پورہ سے نماز فجر ادا کر کے گھر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ انہیں سفاکانہ طور پر چاقوؤں سے شہید کر دیا گیا۔احمدی متواتر کئی راتوں سے جاگ رہے تھے۔اُس روز ان کی حالت نہایت خطرہ میں تھی۔وہ سمٹ سمٹا کر تین چار جگہ میں محصور ہو گئے۔شریر اور فتنہ پردان ان کے دروازے توڑتے، پتھر مارتے اور گالیاں دیتے تھے۔اور اس فکر میں تھے کہ جس طرح ہو سکے احمدیوں کو ختم کیا جائے۔احمدیوں کے لیے ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرنا بھی نا ممکن ہو گیا۔بلکہ یہ ابجے کے قریب مارشل لاء لگ جانے کے باوجود محلہ کے اندرونی حصوں کو بدستور خطرہ لاحق تھا۔بالبوعبدالکریم صاحب کا مکان لوٹ گیا اور پھر اسے آگ لگا دی گئی میستری محمد اسماعیل مصاب د عبد الرزاق صاحب کمیونڈر کے ریلوے کوارٹر پر بھی حملہ کر کے اس کو لوٹا گیا۔عبدالرزاق صاحب