تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 8
A میں کہا:۔وزیر اعلی پنجاب جناب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے اپنی ۵ ار اس چ ۱۹۵۳ء کی نشری تقریر ۱۵ مارچ حفاظت ناموس رسول کے مقدس نعرے کی آٹر میں بعض شر پسند اور پاکستان دشمن عناصر نے ایسی وحشیانہ حرکات کیں جن سے اسلام کے نام کو دھبہ لگا اور پاکستان کے مفاد اور قفار کو شدید نقصان پہنچا۔ان عناصر نے ہماری پاک مسجدوں کو غلط سیاست کی کھلی سازش کا اکھاڑا بنانے تک سے دریغ نہ کیا۔وہ لوگ جو کل تک پاکستان کے الم نشرح دشمن تھے۔امن۔پسند اور بھولئے شہریوں کی آنکھوں میں نمک ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ، ریل گاڑیوں کی پٹڑیاں اکھاڑ دی گئیں تاکہ خوراک کی نقل و حرکت مسدود ہو جائے۔تار اور ٹیلیفون کے سلسلے کو منقطع کرنے کی کوشش کی گئی۔بیوپاریوں اور محنت مزدوری کرنے والوں کو کام سے جبر آرد کا گیا۔دکانیں اور گھر ٹوٹے گئے۔عورتوں کی بے عزتی ہوئی ، قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔غرضیکہ ہر ممکن طریق سے بدامنی اور انتشار ، دہشت اور ہر اس پھیلا نے کی کوشش کی گئی تاکہ صوبہ کی اقتصادی اور شہری زندگی ختم ہو جائے۔آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا کہ یہ تمام کارروائی ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی جبکہ ہمارا ملک خصوصاً صوبہ پنجاب ایک نازک اقتصادی دور سے گزر رہا تھا۔ایک طرف قدرتی حوادث اور نہروں میں پانی کم ہونے کے باعث خوراک کی کمی کا مسئلہ در پیش تھا دوسری طرف عالمگیر بحران نے تجارت کا بازار سرد کر یہ کھا تھا۔اس مصیبت کے وقت پنجاب میں خلفشار پیدا ہونا کوئی اتفاقی سانحہ نہ تھا۔بلکہ ایک خوفناک سازش تھی۔ہر آندا د قوم کا شیوہ ہے کہ مصیبت کے وقت اتفاق اور اعتماد سے کام لے۔ایسے موقع پر سراسیمگی اور خلفشار پھیلانا ملک کے دشمنوں کے سوا اور کسی کا کام نہیں ہو سکتا۔ان دشمنوں کے وجود سے آپ اور آپ کی حکومت بے خبر نہیں تھی۔یہ لوگ پاکستان کے شروع سے مخالف تھے اور ہر مرحلے پر اس کی ترقی اور بہبودی کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ان کی کھلی بغاوت کا کم از کم ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ملک کے دشمن بے نقاب ہو گئے اور قوم نے انہیں ان کے اصلی رنگ اور روپ میں دیکھ لیا ہے ، اب یہ خواہ کسی بھیس میں آئیں یا کسی لائحہ عمل کی آٹا لیں