تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 168
174 آپ نے جو نقصان کی تفصیل سرکاری حکام کے سامنے پیش کی وہ قریبا ساڑھے تیں ہزار روپیہ کی تھی۔بلوائیوں نے تو آپ کو جان سے مار ڈالنے کا بھی تہیہ کر لیا تھا مگراللہ تعالی نے آپ کو ان موذیوں سے بچایا۔بھائی گیٹ اتر ١٩٥٣ - حضرت میاں معراج دین صاحب پہلوان بھائی گیٹ لاہور کا بیان ہے ور مارپیچ ۱۵۳ قتل غارت کرنے اور لوٹ مار اور آتشزدگی کرنے کا آخری دن تھا۔ار مارچ کی صبح کو سب دوستوں نے مشورہ کیا کہ اب کیا کہنا چاہیے تو یہ بات قرار پائی کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں جا کر یہ کہیں کہ حالات بہت خراب ہو چکے ہیں آپ کو ئی انتظام کریں لوگوں کے ارادے ہمارے متعلق بہت خطرناک ہیں۔اگر کوئی روک تھام نہ کی گئی تو نتیجہ اس کا تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔چنانچہ وفد کے چار دوست پکچہری کی طرف روانہ ہو گئے اور بعد میں لحظہ لحظہ ہجوم بڑھتا گیا اور حالات در زندگی - وحشت اور دیوانگی لیے ہوئے خراب سے خراب تر ہو گئے۔اور ادھر یہ ہوا کہ ہمارے نوجوانوں کے عینی شریعت اور ہمدرد دوست اپنے اپنے گھروں میں اُن کو بچوں اور عورتوں سمیت لے گئے۔حملہ میٹر نگاں میں صرف ہم چار افراد رہ گئے۔معراج دین خاکسار حکیم سراج دین صاحب اور ان کا لڑ کا مبارک احمد طالبعلم ٹی آئی کالج اور ایک لڑکا ناصر احمد طالبعلم ٹی آئی کالج ) مذکورہ بالا حالات کے پیش نظر ہمیں بھی گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھنا پڑا۔نوبجے کے قریب ہمارے ایک عزیزہ بغیر احمدی نے ہمیں آکر یہ خبر دی کہ اونچی مسجد کے قریب ایک سائیکل سوار نوجوان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ہمیں یہ سنکر ایک دھکا سا لگا کہ مبارک احمد کی سائیکل ہے کہ نوجوان عبد الستارہ ابھی ابھی کالج کی طرف گیا تھا۔کہیں وہی غریب نہ ہو۔پھر ہم نے اسی عزیز مذکور سے کہا کہ اچھی طرح دیکھ آؤ کہ مقتول کون ہے ؟۔وہ گئے اور م کہ کہا کہ مستری نذر محمد آؤ صاحب کا لڑ کا جمال احمد ہے جسے قتل کر دیا گیا ہے۔یہ شنکر ہمیں سخت صدمہ ہوا۔مگر ہم مجبور شه ولادت ۱۸۸۰ء وفات ۲۲ مارچ 194۵ء سے اسی حلقہ میں عبد الرحیم صاحب ڈسپینسر کا مکان بھی تھا جو 4 مارچ کو لوٹ لیا گیا