تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 167 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 167

140 گیا اور فوج نے حکومت سنبھال لی۔خطرہ کے دُور ہوتے ہی مسعود احمد صاحب واپس اپنے گھر چلے گئے تو سارا سامان بدستور پڑا تھا۔چار پانچ روز کے بعد جب بازار میں امن ہو گیا تو ہم نے دکان کھولی۔جن جن لوگوں کے پاس روپیہ تھا اُن سے مطالبہ کیا تو انہوں نے یہی کہا کہ ہمیں یہی کھاتہ دکھاؤ۔اُن کو کہ دیا گیاکہ آؤ دیکھ لو۔یہی کھا نہ دیکھ کر لوگ حیران تھے کہ دکان تو ساری جلا دی گئی تھی یہ بہی کھاتہ کہاں پڑا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے دکان بھی بیچاری مکان بھی لہجہان بھی محفوظ رکھ لی۔اس واقعہ کا انٹر مالک مکان پر ایسا ہوا کہ انہوں نے سلسلہ کی کتابیں دیکھنی شروع کر دی اور اپنے خاندان کے لوگوں کو احمدیوں سے ملایا کرتے تھے یا اے ما - حضرت ڈاکٹر حافظ عبد الجلیل صاحب شاہجہانپوری کیمسٹ و ڈرگسٹ اندرون موچی دروازہ لکھتے ہیں کہ : - ر میری دکان ۲ مارچ کو لوٹی گئی اور بری طرح صفائی کی گئی یہاں تک کہ دوائیاں لوٹتے اور توڑنے کے بعد میز کرسی تمام سامان دکان کا ضائع کیا اور گھروں کو لے گئے دکان کا فرش اور دیواریں ضائع ہونے سے خراب ہوگئیں اور چھوٹی الماریاں اٹھاکر لے گئے اور بڑی الماری کے شیشے توڑ گئے۔یہ نہایت سفاکی اور بربریت کا نمونہ پیش کیا گیا۔ان دنوں بعض سائیکل سوار گزرتے تو وہ ساتھیوں سے کہتے کہ یہ دکان مرزائی کی ہے نوٹ کر لو۔وغیرہ وغیرہ۔افسوس کا مقام ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا دن کے اڑھائی بجے تھے اور پولیس اسٹیشن میری دکان سے قریباً ، گز کے فاصلہ پر واقعہ ہے۔باوجود پولیس کو علم ہونے کے ٹس سے مس نہ ہوئی اور اپنے فرض منصبی کو پھیلا دیا۔جب میں نے متعدد بار پولیس والوں سے پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہمارے افسران کی طرف سے ہم کو یہی حکم ہے کہ نہ وردی پہنیں اور نہ ہی ہاتھ اٹھلائیں۔اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ ان پولیس والوں کی بے پروا ہی سے ہم غریب لٹ گئے کا شه در تخیلی قدرت ما تا مٹکا رطبع اول) مؤلفہ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب ستوری له - لاد ۱ ۱۸۹ و بیت ۱۹۰۴ ، دفات یکم دسمبر ۶۱۹۷۰