تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 166
۱۶۴ دکان کو بند ہوئے ابھی دو تین روز ہوئے تھے کہ شہریوں نے دکان کے تالے توڑ کر جلا دی اور سمجھا کہ بازار میں جو حساب کتاب تھے وہ کا پیاں حساب کی بھی جل گئی ہوں گی۔اور وہ بھی نہیں لے سکیں گے۔مکان پر یہ حالت ہو گئی کہ جرنیلی سڑک سے فٹ پاتھ کے قریب کوچے میں دروازہ تھا۔دن میں دو دو تین تین دفعہ ہزار ہزارہ آدمی سڑک پر پہنچ کر گالیاں دیتے تھے لیکن کوچے کا دروازہ نہیں توڑتے تھے اور آپس میں کہتے تھے کہ اندر صرف دو آدمی ہیں اور ان کے پاس اسلحہ ہے۔جتنے کارتوس ہوں گے اتنے تو یہ مار سکتے ہیں نکلنے کے بعد پھر ان کو قابو کیا جا سکتا ہے۔جب یہ حالت ہو گئی تو مسعود احمد نے اپنی بیوی سے یہ بات کہی مالک مکان کی بیوی سے یہ بات جا کہ کہو کہ ہمارا ستر ہزار کا مال آپ کے مکان میں پڑا ہے ہم یہ سب سامان آپ کے سپرد کرتے ہیں۔براہ مہربانی اپنی موٹر میں پولیس لائن تک پہنچا دیں۔ان کی بیوی نے اپنے خاوند سے جا کر دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ جماعت کے سب لوگوں کے لیے تاریخ مقرر ہے۔اس دن یہ سب قتل ہو جاویں گے۔۔۔۔۔میں اپنی نہیں سہزارہ کی موٹر کیسے تڑوالوں۔یہ جواب سن کر جب وہ واپس آئی اور مسعود احمد کو بتایا تو مسعود احمد خود مالک مکان کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ ساری جماعت کے لوگ قتل ہو جائیں گے یہ بالکل غلط بات ہے۔خدانخواستہ چند آدمی شہید ہو جائیں تو ہو جائیں۔باقی آپ کا یہ خیال غلط ہے۔اگر آپ مہربانی کرتے تو ہم یہ سب سامان آپ کے پاس چھوڑ کر پہلے جاتے مگر انہوں نے بھی حامی نہ بھری۔یہ واپس اپنے مکان میں آگئے۔ایک رات گوری مھتی کہ صبح کو قریشی محمد اقبال صاحب لائن افسر موڑے کہ وہاں پہنچے اور ان کی موڑ کے آگے پیچھے دوشین گنوں والی موڑیں تھیں اور انہوں نے آکر کہا کہ فوراً ملدی جلدی چلے آؤ۔مکان کو اسی طرح رہنے دو۔کوئی سامان زیور کچھ نہیں لیا۔صرف چار جوڑے کپڑوں کے رکھے اور وہاں سے چلے گئے۔اور پولیس لائن جا کہ مجھے خط لکھ دیا کہ آج ہمارے پاس صرف چار جوڑے کپڑوں کے رہ گئے ہیں۔اللہ تعالے کی حکمت کا ملہ سے ان کو پولیس لائن میں گئے ابھی دو دن ہی ہوئے تھےکہ مارشل لاء