تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 165 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 165

١٩٣ فسادات کے ان تمام ایام میں محلہ اور گلی والوں کا بہتا میرے ساتھ بالعموم نہایت شریفانہ رہا۔جو کچھ شورش پچائی۔وہ عام طور پر باہر کے لوگوں نے بچائی۔میں نے ان تمام واقعات میں سے کسی واقعہ کی رپورٹ پولیس میں نہیں کی۔کبھی پولیس کو اپنی امداد کے لیے بلایا۔الحمد للہ میرا کوئی نقصان ان فسادات کے ایام میں نہیں ہوا۔خاکسار ر شیخ محمد اسماعیل پانی بہتی مرکان نمبر ۱۸ رام گلی نمبر ۳ لامور - ۴ جولائی ۱۹۵۳ء 4 - حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب ستوری اپنی کتاب تجلی قدرت میں لکھتے ہیں۔: میں جب میں ناصر آباد (سندھ) میں کام کر رہا تھا اس وقت ساری مذہبی پارٹیاں ہمارے خلاف ہو گئیں اور پھر حکومت بھی خلات ہو گئی۔اس وقت برخوردار مسعود احمد بھی لاہور میں کام کرتا تھا۔اکبری منڈی میں دکان تھی آسٹریلیا بلڈنگ میں ایک سوستر کہ وپیہ پر نچلا حصہ کرایہ پر تھا۔اس مکان کے مالک آسٹرلین بلیڈنگ والے خاندان کے ممبر تھے۔میں چونکہ اس وقت سندھ میں تھا نا صر آباد کا مینجر لگا ہوا میں نے خواب میں مسعود احمد کو دیکھا جو کہ نہایت پریشان حالت میں تھا اور کہتا تھا کہ ابا جان! آج ہم مہاجر بن گئے۔اس وقت دکان کا قرضہ دو لاکھ کے قریب بازار کے ذمہ تھا اور گودام میں جو مکان کے ساتھ تھا ستر ہزار کا مال پڑا ہوا تھا۔اس نے کہا آج ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔آج مہاجر ہو گئے۔اس خواب کے ذریعہ مجھے پریشانی ہو گئی۔میں نے صدقہ بھی دیا اور دعا بھی کی اور مسعود احمد کو خط لکھا کہ تمہارے گھر میں کوئی بچہ پیدا ہونے کی تو امید نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں میں نے اس غرض سے دریافت کیا تھا کہ اگر پیدا ہونے والی لڑکی ہو تو چونکہ لڑکی جہیز میں کچھ لے جاتی ہے۔میں نے سمجھا کہ یہ خواب اس طرح بھی پورا ہو سکتا ہے۔جب اس نے مجھے یہ جواب دے دیا۔ادھر خطرات بڑھ رہے تھے۔میں نے دعائیں شروع کر رکھی تھیں چنانچہ مارکیٹ میں جو دکان بھی خطرہ پیدا ہوا کہ لوٹ لی جاوے گی تو مسعود احمد صاحب اپنے تھانہ جات کو گھر لے آئے اور دکان بند کر دی۔ان کا دکان پر آنا جانا بھی بند ہو گیا۔