تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 149 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 149

۱۴۷ منے آگئے اور انہوں نے مجھے اور اس کے مال کو جو میں نے اُسے دیا تھا گھیر لیا اور کہنے لگے کہ ہم مرزائیوں کو اور اُن کے مال کو ہرگزنہ نہیں جانے دیں گے۔یہ سب مال تحفظ ختم نبوت کیلئے خرچ ہو گا۔مظفر مذکور نے مجھے از حد دہشت زدہ کیا اور مجھ پر لین دین کے معاملہ میں بھی اس قدر سختی کی جو بیان سے باہر ہے کہ گرام۔صدر بازار اوکاڑہ کے ایک اور احمدی دکاندار کا بیان ہے کہ جہ شورش کے ایام سے ۱۰-۱۵ دن قبل ہمارا پڑوسی۔۔۔۔دکاندار صدر بازار اپنے گاہکوں سے یہ کہتا رہتا تھا کہ ۲۲ فروری کے بعد ان مرزائیوں کو ختم کر دیا جائے گا اور ان کی لڑکیاں اُٹھا کرلے جاویں گے۔ہجو گاہک ہمارے پاس آتلا سے کہتا کہ مرزائیوں سے کیوں سودا خریدتا ہے۔تیرا منہ کالا کر دریا جاوے گا۔۲۳ فروری کے بعد یہ کہتا رہا کہ صرف ایک دو دن کے یہ مہمان ہیں حتی کہ مارچ کی دو تاریخ آگئی صبح دکان کھولتے ہوئے اس نے کہا کہ کل تمام مرزائی ختم کر دیئے جاویں گے۔کوئی نظر نہیں آوے گا۔اس طرح متواتر ہمیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور ہمارے مکان میں ہمارا پڑوسی۔۔۔۔۔ہمیں بار بار یہ اطلاع دے رہا تھا کہ تمہارے مکان کو آگ لگانے لگے ہیں۔تم جلد مسلمان ہو جاؤ ورنہ آگ لگادی جاوے گی۔در مامرت کو محمد اقبال کی دکان جو لکڑی کے کھو کھا کی تھی جلا دی گئی۔اس وقت ہمارے مکان کے قریب مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک جلسہ ہورہا تھا جس میں مولومی۔۔۔تقریر کر رہا تھا اور ملک کو اشتعال دلار با تھا کہ مرزائیوں کو مار دو۔آگ لگا دو۔جلادو - پبلک اشتعال میں اگر نعروں پر نعرے لگا رہی تھی اور اس قدر دہشت ناک صورت تھی کہ ابھی نہیں ہمارے مکان اور دکان کو آگ لگا دیجائے گی یا ے۔ریل بازار اوکاڑہ کے ایک منیاری فروش احمدی نے بتایا کہ : مورخه مار مارچ ۱۵ بروز میفته جبکہ ہم پر ایک روز قبل ہار مارچ بروز جمعہ المبارک بعد از نماز مغرب ، بجے شام جلوس نے ہمارے مکان پر پتھراؤ کیا اور کھوکھا ملکیتی شیخ محمد اقبال واقع چوڑی گئی ریل بازار کے دروانے اور تختیاں وغیرہ توڑیں تو ہم سب دہشت زدہ ہو کر اپنے مکان کو کھلا چھوڑ کر شیخ رحیم بخش ولد شیخ دیوان احمد ساکن ڈی بلاک کے مکان پر چلے آئے تھے