تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 148 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 148

۱۴۹ پر مکان میں ، دکان پر ہو ہار پر حملہ کیا گیا۔پولیس اور مقامی انسان کو بذریعہ فون مطلع کیا جاتا جا نا کوئی امداد نہ ہوئی۔آخر ہمسایوں نے حکمت عملی سے ہمیں اندرون محلہ کے حملوں سے تو بچا لیا مگر محلہ کے باہر ٹیلیفون کے دفتر کے سامنے جو میری کو بھی زیر تعمیر تھی اس کے دروازے کھڑکیاں اور دیگر عمارہ تی سامان جلایا گیا اور توڑ پھوڑ کر تباہ کر دیاگیا۔۴ - اوکاڑہ کے ایک احمدی دکاندار شیخ حمد یعقوب صاحب) کا بیان ہے۔: 4 تاریخ کو میرے لڑکے محمد اقبال صاحب کے کھو کھا کو مہجوم نے آگ لگا دی۔میں سات تاریخ کو جائے وقوع پر دیکھنے گیا۔تمام سامان وغیرہ جلا ہوا تھا۔نقصان کے باعث مجھے از حد صدمہ ہوا۔میں خود تضعیف آدمی ہوں۔اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ صدمات کو برداشت کر سکوں۔مجھے ایک سپاہی ہمراہ لے کر اپنے مکان پر چھوڑ گیا۔میں وہاں نقصان کے غم میں بیٹھا ہی تھا کہ میرے چند عزیز۔۔۔۔۔۔۔جائے وقوعہ پر پہنچے۔انہیں ہجوم نے گھیر لیا۔خیس طرح وہ اپنی جان بچا کر۔لیا۔واپس پہنچے انہوں نے اپنی داستان سنائی تو اور بھی صدمہ بڑھ گیا۔ابھی ہم اسی حال میں تھے کہ جوم ہمارے دروازے پر اکٹھی ہو گیا اور شور ڈالنے لگا کہ اگر تم پچھنا چاہتے ہو تو احمدیت سے لاتعلقی کا اعلان کر دو ورنہ تمہارے بچے قتل کر دیئے جائیں گے۔عورتیں اٹھالی جائیں گی ہم نے کچھ روپیے زیادہ ۶ لوگوں کو ادھار دیا ہوا تھا۔اس کی ادائیگی کے متعلق کہدیا کہ وہ نہیں دیا جائے گا یارا - ایک احمد می سوداگر جرم اوکاڑہ نے بیان دیا کہ :۔و میرے پاس میرا بیو پاری سود اگر چرم۔۔۔۔منتشگیر می کئی بارہ آتا رہتا تھا۔شورش کے ایام میں بھی میرے پاس آیا۔میرا اور اس کا لین دین تھا۔وہ اپنا قرضہ وصول کرنے کی نیت سے آیا تھا۔اس نے چھ مارچ کو مجھے کہا کہ اگر تم بیچ سکتے ہو تو بچ جاؤ۔گھر سے اپنا سامان وغیرہ سیتھال لو اور بال بچوں کو کسی اور جگہ بھیجد و کیونکہ اب پاکستان میں با مرزائی رہیں گے یا مسلمان۔۱۵۰۰ مسلمان کے حصہ میں ایک مرزائی آتا ہے جو ان سے بچ نہیں سکتا۔سات مارچ کو آکر مجھ سے کہا کہ میرا حساب چکا دو کیوں کہ اب تم بالکل ختم ہونے والے ہو۔میں نے تقریبا پانچ ہزار روپیہ اس کا دینا تھا جس کو میں نے چھپڑا وغیرہ دے کہ پورا کر دیا۔جونہی وہ اپنا مال اٹھانے لگا دس پندرہ