تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 147
۱۴۵ کیا گیا کہ لاہور اور سیالکوٹ کا بدلہ اوکاڑہ میں لیا جائے گا۔ہمسایوں نے احمدیوں کو عورتوں کے ذریعہ خوف دلانا شروع کیا کہ آج رات احمدیوں کے مکانوں پر حملہ ہو گا اور ستورات اور بچوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ملنے والوں کے ذریعہ بطور ہمدردی اور خیر خواہی کے کہلایا گیا کہ ہم تعلقات کی وجہ سے صرف آپ کو اطلاع دے رہے ہیں کہ آپ کے مکان پر حملہ ہو گا میرے تعلقات نے مجبور کیا کہ میں خفیہ آپ کو اطلاع دوں۔علاوہ ازیں پانچ پانچ دس کی ٹولیوں میں احمدیوں کے مکانوں کے گرد منڈلانا شروع کیا اور کبھی اس طرف کبھی اُس طرف کھڑے ہو کر آواز کتنے اور مشوروں کی شکل میں باتیں کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔اگلے روز۔۔۔۔بازاروں میں بذریعہ لاؤڈ سپیکر کہا گیا کہ یہ ے مرزائی مسلمان ہو چکے ہیں۔وہ رات کو یقین دلائیں گے۔باقی جس مرزائی نے مسلمان ہونا ہو وہ بھی بہت آئے۔ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کے بعد وہ ہمارے بھائی ہوں گے۔رات کو چو ہدری غلام قادر صاحب نے پریذیڈنٹ کے مکان کے دروازوں پر سپیرٹ پھینکی گئی۔لیکن آگ لگنے سے پہلے پتہ چل گیا۔باقی مکانوں کے متعلق بھی افواہ پھیلائی گئی کہ آج رات آگ لگادی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے گو آج حالات بہتر ہیں لیکن افواہیں بہت خطرناک اور دہشت ناک قسم کی پھیلائی جارہی ہیں۔۲ - نصر اللہ خان صاحب باجوہ مالک پیٹرول پمپ اوکاڑہ کا بیان ہے۔ر مارچ کا واقعہ ہے ایک جلوس۔۔۔ستلج کاٹن ملز کی طرف سے لاہور جانے کے لیے دیپالپور چوک سے گزرا۔۔۔عیب جلوس گزار رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ یہ پھول پ مرزائیوں کا ہے۔جلوس کے ساتھ پولیس کافی تعداد میں تھی۔پولیس والوں کو جب علم ہوا کہ جلوس والے پرپ کو توڑنا چاہتے ہیں تو وہ عمداً آگے نکل گئے اس پر جلوس والوں نے پتھر مار کہ پیٹرول پمپس کی بلارنگ جس کے تین طرف شیشے لگے ہوئے تھے بالکل برباد کر دیا اور پمپ کو بھی خراب کر دیا۔۳۔شیخ محمد صدیق صاحب لکھتے ہیں۔: آغاز ماہ مارچ ۱۹۵۳ء میں ہمارے خلاف بوجہ احمدی ہونے کے بہت شور و شر تھا اور ہم و " نه من حضرت مسیح موعود کے رفقار میں سے تھے ولادت ۱۸۸۵ د بیعت ۱۸۹۷ء وفات کیم اپریل ۱۹۶۶ء