تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 146
۱۴۷۴ مسجد میں چند اکتش ریز تقریروں کے بعد عورتوں کا ایک جلوس نکلا جو کچھ کہتے اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھیں۔پولیس نے کتے چھینے کی کوشش کی میں پر پانچ سو آدمیوں کا ایک پر غلیظ ہجوم پولیس پر پل پڑا۔پولیس اس جوم کو پیچھے ہٹا رہی تھی کہ ستر سال کا ایک بوڑھا زخمی ہوا اور ہسپتال میں فوت ہو گیا۔- تاریخ کا ایک اور واقعہ بھی ہے اگر چہ اس کا ذکر کسی سرکاری بیان میں موجود نہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کے باور نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ حافظ محمد شش سیکر ٹری جماعت احمدیہ چک نمبر رہی دند و او کا ٹیم) اور ان کے کنبے کے اشخاص کو جن میں ایک بی۔اسے اور دوسرا بی۔اے ایل ایل بی ہے مجبور کیا گیا کہ اپنے عقیدے سے توبہ کریں اور تحریک احمدیہ کے بانی کو گالیاں دیں۔پھر چار پانچ سہزار کا ایک ہجوم ان کو اُن کے گاؤں سے جامع میلیہ اوکاڑہ میں لایا جہاں وہ مولوی مینیاء الدین اور سولہ کی معین الدین کے سامنے پیش کیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ مولویوں کے سامنے اپنے عقائد سے منحرف ہونے کا اعلان کریں۔الخ منہ سے جناب چو ہدر ی حاکم علی صاحب۔سیکرٹری جماعت احمدیہ ادکارہ اوکاڑہ کے واقعات میشدید نے انہی دنوں اطلاع دی کہ ملا بیانات کی روشنی میں در سم مارچ کی رات ، ایک احمدی دوکاندار شیخ محمداقبال مینیاری فروش کی دکان جو ایک بڑے لکڑی کے کھوکھا میں تھی، لوٹنے کے بعد اُسے آگ لگا دی۔وہ جل کر راکھ ہوگئی۔مجسٹریٹ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی بعد ازاں شیخ محمد صدیق صاحب آڑھتی کی نئی کو بھی جو زیر تعمیر تھی اس کے دروازے اور کھڑکیاں جلا دی گئیں۔۔مارچ کو حالات زیادہ خراب ہو گئے کیونکہ یہ ٹولیاں تمام راست احمدیوں کے مکانوں کے سامنے بلٹر بازی ، نر سے ، گالی گلوچ تے شور مچاتی اور پتھر مارتی رہیں۔چند گھروں سے احمدیوں کو مسجد میں لایا گیا۔کے مارچ صبح شہر کے تمام سکول بند کر وا دیئے گئے اور میٹرک کے مقامی تین سنٹروں کے امیدواروں کو بھی پرچہ نہ کرنے دیا اور تمام طلبہ، لڑکے اور دوسرے لوگ جلوس کی شکل میں گلیوں ، بازاروں میں نعرے لگاتے رہے احمدیہ بیت الذکر میں بھی پتھر پھینکے۔شہر میں بہت زیادہ خوف و ہراس پھیلایا گیا اور کھلم کھلا اعلان ے تحقیقاتی رپورٹ من 19 و ص 19 سے اصل رپورٹ میں بیت الذکر کیجائے مسجد کا لفظ ہے دناقل