تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 145
۱۴۳ فصل اوّل ضلع منٹگمری (ساہیوال) تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب کے فاضل رج اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ۔اس ضلع میں کسی قدر اہمیت کے واقعات صرف وہ تھے جواد کاڑہ میں پیش آنے پائے اوکاڑہ کے واقعات کا پس منظر صدر انجمن احمدیہ کے عدالتی بیان میں یہ لکھا ہے کہ :- ۱۹۲۹ ء میں احرار نے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے احمدیوں کو گالیاں دینے اور ان پر ظلم وستم ڈھانے کے پرانے ہتھیاروں کا استعمال شروع کر دیا۔اور انہوں نے کانفرنسیں کیں جن میں متواتر یہ بیان کیا گیا کہ احمدی واجب القتل ہیں اور ان کا قتل کرنا ثواب کا کام ہے۔ان زمربی تقریروں کا نتیجہ اوکاڑہ کے نہ دیک ایک احمدی مدرس مسمی غلام محمد کے قتل کی صورت میں برآمد ہوا۔قائل نے اقبال کیا کہ اُسے مولویوں کی تقریروں نے قتل پر اکسایا ہے۔سیش ج نے قرار دیا کہ اُسے مولویوں کی گزشتہ شب کی تقریروں نے متاثر کیا ہے۔ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے یہ تقریریں کی تھیں اور جن کے نتیجہ میں قتل کی واردات ہوئی تھی کوئی کارروائی نہ کی گئی یہ رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء میں لکھا ہے کہ : مارچ کو تین ہزار کا ایک ہجوم ریلوے اسٹیشن پر پہنچا اور اس نے ڈاڈن پاکستان میل کو تین گھنے پیک رو کے رکھا۔ہجوم نے جنوں کی کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔ٹرین روکنے والی ویکم کی زنجیریں توڑ ڈالیں اور مسافر عورتوں کو بے آبر د کیا۔۱۸ مارچ کو اوکاڑہ کے قریب ٹیلیگراف کے تار کاٹ دیئے گئے۔۱۳ اپریل کو جامع ک رپورٹ م19