تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 143
کے رضا کار بھی شامل تھے۔جلوس میں پر ملایہ دھمکی دی گئی کہ حکومت اس وقت ہمارے مطالبات منظور کرے گی جب احمدیوں کے گھر جلائے جائیں گے۔۲۱ مارچ۔چنیوٹ کے احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم تیز تر کر دی گئی احمدیوں کی دکانیں کھلی تھیں مگر گاہوں کو وہاں سے سودا خرید نے نہ دیا جاتا ایک احمدی ٹرتک سانہ نواب الدین صاحب نے بتا یا کہ گاہکوں کو یہ کہکر روکا جاتا ہے کہ یہ مرزائی کی دکان ہے اس سے سودا نہ خریدیں۔ایک احمدی کسی غیر احمدی دکاندار سے سودا خرید نے گئے اس نے سودا دے دیا مگر دوسروں نے اسے روک دیا وہ احمدی گھر چلے گئے تھوڑی دیر بعد یہ دکاندار گھی وغیرہ خود احمدی کو دینے جا رہا تھا کہ لوگوں نے اُسے نہ بہ دوستی منع کر دیا۔۲۱ ۲۲ مارچ کی درمیانی شب کو چینیوٹ میں ڈھول بجاکر جلوس نکالا گیا جس میں احمدیت ، حضرت چوہدری حمد ظفراللہ خاں صاحب اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف گند اچھالا گیا اور گندے نعرے لگائے گئے۔م اور مارچ۔چنیوٹ سے رپورٹ ملی کہ سوشل بائیکاٹ تاحال جاری ہے منڈی کے سب آ ہستیوں کی کمیٹی نے منڈی سے احمدیوں کو سودا دینے کے خلاف آڑ ہستیوں سے وعدے لے رکھے ہیں۔لہذا منڈی سے احمدیوں کو نہ گندم نہ سبزی دی جاتی ہے ویسے والیں اور سبزی وغیرہ بچوں کے ذریعہ شرفاء سے لے لی جاتی ہے۔غنڈوں کے ڈر سے شرفاء بھی احمدیوں کے بڑے آدمیوں کو سودا نہیں دیتے چپکے سے کہ دیتے ہیں کہ کسی بچہ کو بھیج دینا یا