تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 142
۱۴ کو توجہ دلائی جائے تو وہ پروا نہیں کرتی کہ یہ کام تھا نہ والوں کا ہے کوٹ امیر شاہ کے ایک شخص۔۔۔نے آکرہ کہا تھا کہ مجھے روکتے اور دودھ گراتے ہیں۔PC کے سپاہی نے کہا یہاں آکر کیوں بتاتے ہو چنانچہ دوسرے روز۔۔۔وأس) کا منہ کالا کہ کے اُسے کوٹ امیر شاہ میں مارا گیا۔کسی مستقیہ آدمی کو بھی۔اُسے احمد نگر گارد کے پاس بھیجنا پڑتا ہے والیاں سے تحریر می اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے جو ایک مقامی بااثر شخصیت کا کاروار تھا ڈاکر فضل حق صاحب پریذیڈنٹ کے بیٹے عطاء الحق سے کہا کہ ہوش کرد - چند دن اور گھوم پھر لو قتل کر دیتے جاؤ گے یا ان ہر دو نا خوشگوار واقعات کے علاوہ مضافات ربوہ میں عام طور پر یہ دن سکون دامن سے گزرا۔ار مارچ۔اس روز ڈاکٹر فضل حق صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ لالیاں کا خط حضور کی خدمت میں موصول ہوا جس میں یہ خوشخبری لکھی تھی اب اللہ تعالی کی رحمت کے دروازے کھل گئے۔بالکل سکون ہے ہڑتال بھی ختم ہو گئی ہے یہ احمد نگر میں مقیم تین سپا ہی بعض ایسے دیہات میں گئے جہاں ابھی تک ربوہ کی طرف دودھ لانے میں روکاوٹیں کھڑی کی جارہی تھیں۔بائیکاٹ کی پشت پناہی کرنے والوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ مزاحمت نہ ہوگی۔اس کارروائی کے نتیجہ میں ربوہ کے معاشرتی محاصرہ کے باقی ماندہ اثرات بھی ختم ہو گئے اور دودھ بلا روک ٹوک آنے لگا۔فاطما لہ علی ذالک۔بایں ہمہ ملک کے مختلف مقامات پر یہ خبریں بدستور پھیلائی جاتی رہیں۔کہ ربوہ میں ایک لاکھ جتھہ جارہا ہے بلکہ کمال ڈیرہ سندھ میں یہ خبر گشت کر رہی تھی کہ ربوہ پر حملہ بھی ہو چکا ہے۔فت ۱۸ مارچ۔پتہ چلا کہ ضلع سیالکوٹ وغیرہمیں یہ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ معاذاللہ ربوہ کو جلا دیا گیا ہے اور سب احمدی قتل کر دیئے گئے ہیں۔اس پراپیگینڈا کا علم ماسٹر حمید احمد صاحب شناسی مقیم ربوہ کے ایک غیر احمدی رشتہ دار کے ذریعہ ہوا جو اس دن دوپہر کے قریب ان کی خیریت در دنیات کرنے کو ربوہ پہنچے تھے۔۲۰ ما سرچ۔نماز جمعہ کے بعد چنیوٹ میں جلوس نکالا گیا جس میں گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور میرا انوالہ سے وفات پر مئی ۶۱۹۸۹