تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 141 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 141

۱۴ مارچ۔جامعہ محمدیہ شریف ضلع جھنگ) کے طلبہ نے ربوہ اور احمد نگر کے مضافات میں دورہ کر کے لوگوں کو احمدیوں کے سوشل بائیکاٹ کی تلقین کی۔بعض جگہ انہوں نے یہ بھی کہا وزیر اعلیٰ پنجاب رمیاں ممتان محمد خان دولتانہ) ہمارے ساتھ ہیں۔چنیوٹ میں جلوس نکالاگی نیز احمدیوں کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا گیا اور وکانداروں سے کہا گیا کہ جو مرزائیوں کو سودا دیتا پکڑا گیا اس کا منہ کالا کر دیا جائے گا۔برجی اور دیگر دسیات میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ جو شخص رہورہ جاتا ہے قتل کر دیا جاتا ہے جو بالکل سفید جھوٹ تھا۔معلوم ہوا کہ میانوالی سے میں حجتہ کے چنیوٹ پہنچنے کی خبریں آرہی تھیں اُسے سرگودھا سے ہی واپس کر دیا گیا ہے نیز نتیجہ کے بعض لوگوں کو گرفتار کر کے شاہ پور میں چھوڑ دیا گیا ہے۔۱۵ مارچ۔ماحولی ربوہ کی بعض اطلاعات سے معلوم ہوا کہ عوام میں احراری ایجی ٹیشن کے خلاف نفرت کی ایک رو پیدا ہو رہی ہے اور یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ احرار نے یہ قدم اٹھا کر برا کام کیا ہے۔۱۶ مارچ۔اس دن ربوہ کے ایک احمدی دودھ فروش بعض دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ربوہ کے قریبی گاؤں رستی والا) سے دودھ لیے آرہے تھے۔کہ ۶٫۵ آدمیوں نے ان پر حملہ کر کے دودھ کا برتن چھین لیا۔اور پھر پورے گاؤں کو اکٹھا کر لیا ہجوم میں کوئی کہتا ان کو قتل کرد۔کوئی کہتا ان کو گڑھا کھود کر دفن کردو۔ایک شخص جو اپنے آپ کو سپاہی ظاہر کرتا تھا کہنے لگا کہ اگر انہیں بیاں قتل کر دیا جائے تو حکومت ذمہ دار نہ ہوگی۔بہت دیر تک یہ ہنگامہ جاری رہا۔آخر بڑی مشکل سے یہ لوگ ربوہ پہنچے مولوی عبد العزیز صاحب بجا مرمتی محتسب بہ بودہ نے اس واقعہ کی اطلاع حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پہنچاتے ہوئے لکھا :۔اس واقعہ کی اطلاع انچارج مخھانہ لالیاں کو کر رہا ہوں کہ وہ انسداد فرمائیں یہاں کی ہے۔مگارد نے دریائے چناب کے دوسرے کنارے چنیوٹ جھنگ سڑک پر ایک سنی درگاہ مہتمم دبانی مولوی محمد ذاکر صاحب - تاریخ بنیاد الحرم الحرام ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۴ ر مئی ۶۱۹۳۳