تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 133 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 133

۱۳ لالیاں سے ڈاکٹر فضل حق صاحب صدر جماعت احمدیہ نے اطلاع دی کہ آج صبح سے لوگ جمع ہونے شروع ہوئے اس وقت جلوس نکل رہا ہے اور نعرے لگ رہے ہیں پبلک میں اشتعال پایا جاتا ہے۔شرفاء پر امن رہنے کی تلقین کر رہے ہیں لیکن مفند پیروانہ باز نہیں آرہے۔۔۔۔۔۔جماعت کے حوصلے خدا کے فضل وکرم سے بلند ہیں اور ہمیں اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین ہے ہمیں معلوم نہیں کہ اُن کے کیا ارادے ہیں ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں حضرت مصلح موعود نے اس رپورٹ پر اپنے دست مبارک سے لکھا جزاکم اللہ احسن الجزاء ۹ مارچ۔مرکز کی طرف سے چھ کارکنان گوجرانوالہ ، لائلپور، لاہور سیالکوٹ ، چنیوٹ اور سر گور پیا کو مفصل ہدایات دیگر روانہ کیے گئے۔شام کو نظارت امور عامہ میں حسب ذیل رپورٹ موصول ہوئی کہ : - ند ربوہ کا سب سے پہلے بائیکاٹ کوٹ امیر شاہ کے آدمیوں نے کیا پہلے پہلے دودھ بند کیا پھر دوسری اشیاء۔صرف چارہ بعض ہمارے دوست نے آتے تھے آج شام کو جب ہمارے ربوہ کے دوست یعنی غلام حسین گڑے والے کے آدمی چارہ لینے کے لیے گئے تو گاؤں کے آدمیوں نے انہیں چارہ کاٹنے سے منع کر دیا اور کہا کہ۔۔۔۔۔۔شاہ کا آدمی رجوعہ سے آیا ہے کہ ربوہ والوں کا پورا پورا بائیکاٹ کر دیا گیا، ہے اس لیے چارہ وغیرہ نہیں مل سکتا " مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مبلغ بلاد عربیہ دیپرنسپل جامعہ احمدیہ ان دنوں احمد نگر کے پریذیڈنٹ تھے۔آپ نے فسادات کے دوران نہ صرف احمد نگر اور اس کے قرب وجوار میں آباد احمدیوں کو چوکس مستعد اور بیدار رکھا بلکہ مرکز کو احمد نگر اور اس کے ماحول لالیاں، کوٹ قاضی مل سپیرا یکو کے۔کوٹ امیر شاہ وغیرہ کی رپورٹ بھجواتے رہے۔19 مارچ سے آپ نے حضرت سید نا المصلح الموعود خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت اقدس میں براہ راست روزانه دو وقت اطلاعات پہنچانے نہ ایک گاؤں جو کہ ربوہ سے متصل شمالی جانب واقع ہے۔