تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 129 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 129

شور کوٹ ان ایام میں بدامنی سے محفوظ رہا اور مجبوس پر امن رہے اور ان میں کسی قسم کا کوئی نا زیبا نعرہ نہیں لگایا گیا جو مقامی حکام کے تعاون اور حسن انتظام کا نتیجہ تھا۔ایک شخص نے از راہ شرارت حکیم محمد زاہد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کے خلاف تحصیلدار صاحب کی عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے ہماری عورتوں کو گالیاں دی ہیں مگر یہ واقعہ سرا سر فرضی تھا چنانچہ وہ بری کر دیئے گئے لے بستی وریام گڑھ مہاراجہ، پیر عبدالرحمان بس سٹینڈ اور تھانہ بھوانہ کی احمدی جماعتوں میں بھی خیریت رہی کیے ربوده - احمد نگر اور چنیوٹ اور اس کے ماحول پر کیا بیتی ؟ اس کی کسی قدر تفصیل اب بیان کی جاتی ہے جہاں صوبہ پنجاب کی بہت سی احمدی جماعتوں کو مارچ ۱۹۵۳ء کے فتنہء محشر اور ہنگامہ قیامت سے دوچار ہونا پڑا ، وہاں ربوہ اور اس کا ماحول پر فتن ایام میں بھی بائیکاٹ محاصرہ اور قتل و غارت کی دھمکیوں کے تکلیف دہ ابتلاء میں گزرا۔یہ ایام بہت صبر آزما تھے اور کئی تلخ یادیں چھوڑ گئے۔اس دور کے احوال و کوائف تاریخ ریدہ اور اس کا ماحول وار درج کیے جاتے ہیں :۔۱۳ مارچ ۳ مارچ ۱۹۵۳ء کو مسیح چھ بجے مولانا محمد اسماعیل صاحب دیا گڑھی مربی سلسلہ احمدیہ نے لائلپور سے یہ تحریر میں اطلاع بھجوائی کہ۔حالات نہایت مخدوش ہیں۔ہر احمدی گھر پر ہر لحظہ حملہ متوقع ہے کل چناب ایکسپرلیں۔۳۔۳۵ منٹ تک چنیوٹ میں روکے رکھی اور ہر ڈبہ میں احمدیوں کی تلاشی لی گئی تا کہ انہیں بانس کال کر مار دیا جائے۔چنیوٹ پولیس یا فوج کا کوئی انتظام نہیں تھا۔گاڑی جب لالپور پہنچی تو سگنل سے باہر روک لی گئی اور تین گھنٹے تک روکے رکھی بالآخر گولی چلانا پڑی۔۴ مارچ۔اس دن چنیوٹ گورنمنٹ گرلز سکول کی معصوم احمد می بچیوں کو جوتیوں سے پیٹا ے مکتوب بحضور حضرت مصلح موعود مرسله حکیم عبد الرحمان صاحب شمس سیکرٹری تبلیغ جماعت احمد یہ شور کوٹ (مورخہ دار مارچ ۱۹۵۳ء) سے کارڈ مولوی عبدالرحیم صاحب عارفت بنام حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر وعوت و تبلیغ ربوه (۱۸ ز مارچ ۶۱۹۵۳ )