تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 128
فصل سوم ضلع جھنگ جھنگ مگھیا نہ میں شورش کے دوران اصل خطرے کے ایام ہر ے مارچ کے تھے جن میں فتنہ دهناد انتهانی عروج پر تھا۔اور اندیشہ تھا کہ جانی ومالی نقصان احمدیوں کا ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے شریروں کا رخ دوسری طرف پلٹ گیا احمدی محفوظ رہے البتہ ان کے خلاف بائی کاٹ اور پکینگ کی تحریک بہت شدید تھی ان دنوں احمدیوں کی بیس کے قریب دکانیں شہر میں تھیں۔جو ان کو بند رکھنا پڑیں۔ان کی اور کھا چوں کے احمدی مہاجرین کی کئی ایک چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں بند رہیں کیونکہ مزدوروں کور کام کرنے سے روک دیا گیا۔اور احمدیوں سے لین دین کرنے والے شخص کے لیے یکصد روپیہ جرمانہ مقرر کیا گیا۔میاں بشیر احمد صاحب رنائب امیر جماعت احمدیہ مگھیا نہ - ایجنٹ سٹینڈرڈ و یکم آئل کمپنی جنگ) کی دکانیں ان ایام میں کھلی رہیں مگر سوائے پٹرول پمپ کے کوئی کار دربار نہ ہوا کیونکہ کٹنگ جاری تھی اور پڑول بھی پنجاب ٹرانسپورٹ کے سوا کسی نے نہیں لیا ان کی دکان اور پمپ کے سامنے ہی روزانہ بجلوس اگر اکھاڑا لگاتا اور یہیں سے منتشر ہو جاتا۔بالآخر مقامی حکام کے تعاون سے پکٹنگ تا کام ہوگئی اور احمدیوں کا کار دوبارہ پھر سے چل نکلا۔اقتصادی بائیکاٹ کے علاوہ مہنگیوں اور حجاموں کو احمدیوں کا کام کرنے سے روک دیا گیا احمدی احباب نے ان تمام حرکتوں کا صبر و استقلال سے مقابلہ کیا ہے را بنگہ ضلع جالندھر کے نواح میں ایک گاؤں ملخص مکتوب چوہدری عبد الفتن صاحب امیر جماعت احمدیه سنگی به بحضور حضرت مصلح موعود (۹ار مارچ ۱۹۵۳ء) مکتوب میاں بشیر احمد صاحب جھنگ مگھیانہ بحضور حضرت المصلح الموعود (۱۶) مارچ ۹۱۹۵۳) رپورٹ مولوی عبد الرحیم صاحب عارف مربی جھنگ مگھیانہ بنام حضرت سید ولی الله شاه صاحب اور مارچ ۱۱۹۵۳)