تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 121
119 سے روک دیا گیا۔ہم احمدیوں سے بائیکاٹ کیا گیا اور سودا سلف دینے سے دوکانداروں کو منع کر دیا گیا۔ایک دن میرا بچہ سبنری لینے گیا۔دکاندار نے اُسے سبزی دے کر پیسے لے لیے اور بعد ازاں سہنری چھین لی۔اور بچہ روتا رہ دتا گھر آ گیا۔ہمارے پاس آٹا ختم ہو گیا تھا اور آٹا پسا یا بھی نہیں جا سکتا تھا۔اس لیے ہم دو دن بغیر آٹے کے رہے۔دو وجود دہلی سے کہا گیا کہ ان کو دودھ نہ دیا کرے مگر وہ وفادار نکلی اور خفیہ طور پر دودھ دے جاتی۔بھنگن کو بھی بند کر نے کی کوشش کی گئی۔ہم چائے پی کر اندر خاموشی سے بیٹھے رہتے۔ایک دن ہمیں ایندھن کی بہت تنگی آئی۔ایک دن ہمارے گھر کو آگ لگانے کی سکیم تھی۔چند لوگ ہمارے گھر کی طرف آ سکے کچھ اشارے کرتے رہے مگر واللہ اعلم کیا وجہ ہوئی منتشر ہوکر چلے گئے۔شاید پولیس والے گشت پر آتے نظر آئے ہوں۔ہماری کھڑکیوں کو جالی لگی ہوتی تھیں۔یہ سب کچھ نہیں نظر آتا تھا۔مجھے ساری ساری رات جاگنا پڑ تا حبس کی وجہ سے میری صحبت خراب ہو گئی اور ابھی تک مکمل درست نہیں ہوئی۔نوکرانی کے ہٹائے جانے سے سارا کام خود کر نا پڑتا۔دھوبی کے پاس ہمارے کپڑے گئے ہوئے تھے۔اس نے کپڑے دینے سے انکار۔کر دیا۔ایک دن پولیس نے ہمارے مکان پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔صرف میکں اور میرا چھوٹا بچہ اس وقت گھر پر تھے۔لوگ ہمارے گھر کے اردگرد جمع ہو گئے۔پولیس نے مجھے یہ موقع نہ دیا کہ میں کسی عزیز کو بلا لیتی۔جس طرح ڈاکوؤں کے گھر میں داخل ہوتے ہیں راسی طرح ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ناقل ) کچہ کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس وقت مجھ پر بہت خوف طاری ہوا۔پولیس نے گھر کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر میں سے کوئی بھی قابل اعتراض چیز نہ نکلی۔جس وقت پولیس نے چھاپہ مارا اس وقت عصر کا وقت تھا میں نماز پڑھنے لگی تھی۔انہوں نے کہا ہمارے ساتھ ہو کر گھر کی تلاشی دلاؤ۔میں نے کہا پہلے مجھے عصر کی نماز پڑھ لینے دو سپاہیوں نے مجھے ایسا کرنے سے روکا لیکن تھانیدار نے کہا بی بی پڑھ لو۔ایک دن مجھے ہمسایوں میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ آپ بہنوں جیسی ہیں اس لیے آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ مکان چھوڑ کر کہیں چلے جائیں یا احمدیت سے انکار کر دیں۔