تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 120 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 120

LA جڑانوالہ گورنمنٹ ہائی سکول میں سیکنڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔عرصہ چار سال کا ہو گیا ہے۔وہ وفات پا چکے ہیں۔میں ہوشیار پور کے ایک معزز گھرانہ سے تعلق رکھتی ہوں اور اب میں جڑانوالہ میں تقسیم ہوں میرے پاس چھوٹا لڑکا جس کی عمر آٹھ نو سال کی ہے رہتا ہے۔اور پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے جس دن سے احمدیوں کے خلاف مولویوں نے اعلان کر دیا کہ ان کو مارا پیٹا جائے اور ان کو دُکھ دینا اور مارنا کار ثواب ہے اس دن سے میرے بچے کو اسکول میں دوسرے بچے دُکھ دیتے تھے۔جس وقت اس کو اکیلا دیکھتے تو اُسے پڑا تھے۔ایک دن میرے بیٹے کو خوب پیٹا گیا اور اُسے کہا گیا کہ جب تک تم چو ہدری ظفر اللہ خاں اور بانی سلسلہ احمدیہ کو گالیاں نہیں نکالو گے ہم تمہیں مارنا بند نہیں کریں گے۔آخر ان لڑکوں نے میرے بچے کو اس وقت چھوڑا جب میرے بچے نے چوہدری ظفر اللہ کو غدار کہدیا اور بڑی مشکلوں سے پھوٹ کر روتا رہ دتا گھر آیا۔ایک دن بڑے بڑے لڑکے اس کی جوتی اٹھا کرے گئے۔جلوس نکلنے کی وجہ سے سب دکانیں بند تھیں۔اس لیے اور جوتی خریدی بھی نہ جاسکی اور نہ ہی میرے پاس کوئی آدمی جو تا لاکر دینے والا موجود تھا۔ایک رات کچھ لڑ کے میرے مکان میں داخل ہوئے۔پھولوں کے گملے اور چند برتن اٹھا کرلے گئے۔ان کے علاوہ اور بھی نقصانات ہوئے ہر روز کئی کئی جلوس نکالے جاتے اور ہمارے گھر کے سامنے آکر خوب مظاہرہ کرتے اور خوب ناچتے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور ہم احمدیوں کا سیا پا کیا جاتا۔ایک لڑکے کا منہ کالا کر کے اس کو چار پائی پر لٹا کر اسے اٹھاتے پھرتے اور کہتے کہ یہ ظفر اللہ کا جنازہ ہے۔ایک آدمی کو جوتوں کا ہار پہنا کر جلوس کے آگے نچایا جاتا اور اُسے گالیاں دی جاتیں کہ یہ مرزا غلام احمد ہے اور ہمارے گھر کے چاروں طرف گھومتے۔گندی گالیاں دی جاتیں جو لکھی بھی نہیں جاسکتیں۔ئیں اور میرا چھوٹا بچہ دروازے بند کر کے اندر بیٹھے رہتے۔پھر مکان پر پتھراؤ کیا جاتا۔بہت زور سے پھر ہمارے مکانوں اور کھڑکیوں پر آکر لگتے۔ہمارے روشندانوں کے شیشے سب توڑ دیئے گئے جن کی اب تک مرمت نہیں کروائی جا سکی۔ایک عورت ہو میرے گھر میں کام کرتی تھی اُسے روپوں کا لالچ دے کر ہمارے گھر میں کام کرنے