تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 2
بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا تعالیٰ کے فضل اور رسم کے ساتھ هو الت ا فروری سملالہ کے آخر میں مغربی پاکستان خصوصا اس کے صوبہ پنجاب میں فسادات کے شعلے بھڑک اٹھے جس پر اور مارچ ۱۹۵۳ء کو لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ عمل میں آیا۔بعد ازاں جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم آر کیانی جیسے فاضل ججان پیش تمل تحقیقاتی عدالت نے اس شورش کے عوامل اور دیگر ضروری احوال و کوائف کی نہایت محنت در فریزی سے چھان بین کی اور اپنی مفصل رپورٹ میں فسادات کی تفصیلات پر روشنی ڈالی اور ان کے پیچھے کار فرما عناصر کو بے نقاب کیا۔ان فسادات میں لاقانونیت ، ہنگامہ آرائی اور بد امنی کے اثرات و نتائج میں واضح صورتوں میں اُبھر آئے۔اول - اخلاق سونہ مظاہرے۔دوم سوم - پاکستان کے خلاف بغاوت۔جماعت احمدیہ کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد۔