تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 108
KA جواب دیا کہ میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا۔آپ ربوہ چلے جائیں۔ہر روز کئی کئی دفعہ جلوس آئے اور مکان کے آگے نعرے لگاتے اور گالیاں نکالتے مگر ہم اپنے مکان کے کواڑ بند کر کے ہفتہ بھر مقتدر ہے۔ہمارا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔اس لیے کھانے پینے کی اشیاء بھی میسر نہیں آتی تھیں۔میری لڑکی شمیم شوکت ہو کہ سٹی مسلم گرلز ہائی سکول میں پڑھتی ہے۔اس کو دینیات کی استانی نے محض احمدی ہونے کی وجہ سے پیٹا اور دوسری لڑکیوں کو بھی احمدی لڑکیوں کو بیٹے کی تلقین کی۔۲۰ را پر بل ۹۵۳ کو پولیس نے میرے مکان کی بلا وجہ تلاشی لی لیکن کوئی چیز قابل مواخذہ قبضہ میں نہ لے سکی۔الخ میاں محمد اسماعیل صاحب اپنے تحریری بیان میں اور جولائی سر کو فسادیوں کے حملہ اور غارت گری کا واقعہ بتانے کے بعد لکھتے ہیں : جب احرار نے 19 میں نئے سرے سے منتظم ہو کر احمدیت کے خلاف تحریک جاری کی اور ۲۸ فروری سے جلسے جلوس شروع ہو گئے۔تب 4 مارچ کی شام کو میرے مکان محلہ لکڑ منڈی لائلپور پر ہزاروں احراریوں نے حملہ کر دیا۔ہم اس وقت مکان میں 4 مردا اور ہم عورتیں تھیں۔جن کے نام یہ ہیں۔ا محمد اسماعیل (۲) بشیر احمد (۳) ضمیر احمد (۴) شریف احمد (۵) صدیق احمد -- مبارک احمد (پسران خود) (۷) رحمت بی بی اہلیہ خود (۸) بشیراں بیگم اہلیہ بشیر احمد - صفیه بگیم بنت خود (۱۲) بشیر فاخره بنت بشیر احمد سات بجے شام سے 9 بجے رات تک ہمارا بلوائیوں سے مقابلہ ہوتا رہا۔۔۔۔۔۔مگر جب ہماری اینٹیں ختم ہونے کو تھیں ملیں اس وقت) و پ کے رات کے پولیس آگئی اور اُس نے آکر ہجوم کو منتشر کر دیا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر طرح محفوظ رکھا " - جناب فضل عمر صاحب ولد عبداللہ صاحب کا بیان ہے : ریکی ماہ مارچ میں حشمت اللہ ڈپو ہولڈر کے پاس اس کے ڈپو واقعہ گٹو شالہ میں ملازم متصل مورخه د مارچ قریب ساڑے سات بجے صبح میں نے ڈلو کی طرف پانچ صد آدمیوں کا جلوس آتے دیکھا۔جلوس کو میں نے دیکھ کر ڈلو کی دکان کو تالا لگا دیا۔اور پڑوس میں غیر احمدیوں کے پاس پناہ لی۔