تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 107
کی تعداد ۵۰۰ کے قریب سبھی حملہ کیا یہ وقت نہیں بجے شام کا تھا۔میرے گھر میں ایک شارٹ کن کمرہ میں سامنے لٹک رہی تھی۔حملہ آوروں نے اُٹھالی اور کہا کہ تم لوگ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ مار دیا جائے گا۔کارخانہ بازار میں (ہمارے نزدیک) ایک احمدی چوہدری فضل الدین کا گھر تھا۔ہم اس مکان میں اکٹھے ہو گئے میرے گھر کا سب سامان لوٹ لیا گیا۔میرے لڑکے نے تھانہ میں فون کیا تو دوسپاہی آئے جبکہ سامان لوٹا جا چکا تھا۔کچھ آدمی وہاں تھے۔پولیس نے ان کو کچھ نہیں کہا۔مجھے یہ کہا کہ جاؤ اپنے گھر میں۔کوئی فکر نہ کرو۔حملہ اور مجھے کہتے تھے کہ ہم تمہیں مار دیں گے اور جب تیرے لڑکے تجھے اٹھانے آئیں گے تو ان کو بھی مار دیں گے۔تب میں نے وہاں سے آجانا ہی مناسب سمجھا۔پولیس نے ہماری کوئی ملہ دنہیں کی یار ۳ - عبد الحمید صاحب نیم ملا کریم بخش صاحب ساکن گل نبرہ محلہ پر تاپ نگر لائل پور لکھتے ہیں کہ یکی عرصہ تین سال سے پرانی غلہ منڈی میں سائیں محمد بشیر احمد کمیشن ایجنٹ کی دکان پر بطور مینم کام کرتا تھا۔مارچ ۱۹۵۳ء میں احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی مہم جاری ہوئی۔احراری لیڈر میر غلام نبی۔حکیم غلام محمد - چوہدری عبد الحمید آڑھتیاں نے سائیں محمد بشیر احمد کو مجبور کیا کہ مجھے ملازمت سے مرزائی ہونے کی وجہ سے علیحدہ کر دے۔سو ۴ مارچ کو مجھے علیحدہ کر دیا اور اس وقت سے بیکار ہوں۔مجھے اب تک ملازم نہیں ہونے دیتے کا چوہدری غلام جیلانی صاحب نے رجو ان ایام میں گلی نمبر محلہ سنت پورہ لائل پور میں قیام پذیر تھے) تحریر فرمایا : و مارچ سال کے پہلے ہفتہ میں دوبارہ منتظم طور پر فنڈ دگر دی شروع کی گئی۔یکم مارچ ر کو قریباً پانچ صد افراد کا ہجوم میرے مکان پر حملہ آور ہوا۔انہوں نے اینٹیں پر سائیں اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا چاہا مگر کو بٹھے سے میرے رائفل دکھانے پر وہ باز رہے پولیس کو اطلاع دی گئی مگر چو ہدری سردار علی اے ایس آئی انچارج چو کی جھنگ بازار نے مات ت بعد ازاں ربوہ میں مقیم ہو گئے تھے اور یہیں وفات پائی وفات 8 مارچ ۱۹۷۶ء