تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 101 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 101

جوش و خروش بڑھتا گیا آخر کار ہمارا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور پانی بند ، سودا سلف بند۔بولنا بند تھا نگر کئی ایسے معزنہ اور شریف غیر احمدی دوست بھی تھے جو خفیہ طور پر ہمیں سودا سلف گھر پہنچا جاتے تھے۔بائیکاٹ اور منافرت روز بروز زور پکڑتی گئی اور مرزائیوں کے مال کو ٹوٹنا اور مارنا کار ثواب قرار دیا گیا تو ان حالات کو دیکھ کہ خاکسار اور خاکسار کا بھائی غلام اللہ اسلم مرحوم دونوں نے ربوہ آکر اپنی نقدی ختنہانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرا دی اور لوگوں کا جو زیور سونے چاند کا بنا ہوا تھا اور سونا بھی ربوہ میں عزیزم ضیاء الدین احمد صاحب ولد میاں روشن الدین صاحب کی پیٹی میں رکھ دیا اور خود دونوں بھائی اسی دن واپس سینڈوالہ کے لیے چل پڑے۔صبح پہلی بس پر ہم سید والہ پہنچ گئے۔اور ساتھ ہی مشہور ہو گیا کہ عبدالسلام اور غلام اللہ ٹیکسی پر ریوہ سے اسلحہ لے آئے ہیں۔اور ہمارے سید والہ پہنچنے کے دو دن بعد منتصب لوگوں اور ہماری برادری نے یہ بات پھیلا دی کہ جس طرح ہندؤں کو ملڑی یہاں سے لے گئی تھی اسی طرح ان مرزائیوں کو بیاں سے لے جائے گی۔اور جو کچھ تم نے ان سے لیتا ہے فوری طور پر وصول کر لو۔اسی طرح لوگ باہر سے بھی اور شہر کے اندر سے بھی جن لوگوں نے ہمیں زیورات دیتے ہوئے تھے مانگنے شروع کر دیئے۔اس پر ہم نے اپنے والد میاں غلام محمد صاحب مقامی پریذیڈنٹ جماعت احمدیه کور بوده روانہ کیا کہ آپ وہاں جا کر نہ یورات اور چند ہزار روپے جو ہم نے دیئے تھے نے آئیں۔والد صاحب ربوہ پہنچے اور رات ربوہ گزاری اور صبح مال نکلوا کر واپس سید والہ جانے کے لیے روانہ ہوئے۔جب جڑانوالہ پہنچے سارا شہر بند تھا۔لائیپلیور بھی ہڑتال مھتی۔اور جلوس نکل رہے تھے۔اور ہمارے اور حکومت پاکستان کے خلاف نعرے بازی ہو رہی تھی جو جلوس جڑانوالہ پھر رہا تھا اس کی راہنمائی ایک احراری غلام رسول صاحب کر رہے تھے۔والد صاحب نے منہ پر اپنی پگڑی سے مٹھ مٹھے باندھ لیا اور ہاتھ میں بیگ تھا۔مال اور رقم نقد واسکٹ میں تھی اور اڈا پر ایک ٹیکسی میں آکر بیٹھ گئے۔ٹیکسی ڈرائیور باگ علی نامی تھا۔جس نے جلوس کو جا کر تبلا دیا کہ میری ٹیکسی میں مرزائی بیٹھا ہے۔تب سارا جلوس اڈہ کی طرف امڈ آیا۔جب جلوس ٹیکسی کے پاس پہنچا تو پہلی نظر غلام رسول صاحب کی والد صاحب پر پڑی۔خدا تعالیٰ نے اس کے دل کو بدل دیا اور اس نے والد صاحب کو دیکھتے ہی کہا کہ واہ میاں صاحب آپ اس آگ میں کیوں آگئے ؟۔