تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 100 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 100

سے کہا گیا کہ گاؤں سے نکل جاؤ۔انہوں نے کہا کہ میں اپنا مکان چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا جس طرح مرضی ہو کر و۔اسی اثناء میں دار برٹن سے دو سپاہی پہنچ گئے اور انہوں نے اعلان کروا دیا کہ کوئی شخص اس احمدی کو تکلیف نہ دے اس طرح خدا نے اپنے اس مظلوم بندے کی حفاظت کا خود سامان کر دیا۔پیک چو سر شاہ تحصیل ننکانہ میں احمدیوں کا محاصرہ کیا گیا۔بھینی شرق پور کے احمدیوں کے خلاف مخالفین نے شرق پور میں سجنت اشتعال پھیلانے کی کوشش کی۔موھا سکے میں مکرم چو ہدری عطاء ربی صاحب احمدی کو لوٹنے کے لیے منصوبہ بنایا گیا۔مگر موضع ملک پور کے معزز غیر احمدی نمبر دار چودھری شاہ محمد صاحب ان کو اپنے گاؤں میں لے گئے۔تیرڈے والی میں سید اصغر حسین صاحب کو ان کے غیر احمدی بھائی نے پناہ دی۔سکنہ مہلن وال میں شیخ محمد انور صاحب کے گھر پر حملہ کیا گیا مگر ان کے غیر احمدی بھانجے نے بیچ میں ہوکر اس حملے کو ناکام بنا دیا۔تانوں ڈوگر مھمعہ تا جریاں اور شاہ مسکین میں بھی جلد کی سکیمیں بنائی گئیں گر بحمداللہ خیریت رہی۔بلکہ مین شورش کے ایام میں نانو ڈوگر میں دو سعید رو میں داخل احمدیت ہوئیں۔میاں عبد السلام صاحب احمدی زرگر حال برینی کا بیان ہے : ستید والہ ۳ ورڈ کی شورش کے ایام میں خاکسار ستیہ والہ ضلع شیخو پورہ میں مقیم تھا۔اور خدام الاحمدیہ سید والہ کا قائد مجلس تھا۔شروع شروع میں جب ہمارے خلاف تحریک شروع ہوئی تو دیواروں پر اور پوسٹروں کے ذریعے ہمارے خلاف مطالبات لکھے گئے یہ مرزائیت کو اقلیت قرابہ دو ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے ہٹاؤ۔کلیدی آسامیوں سے ان کو مٹاڈ وغیرہ وغیرہ۔اس کے ساتھ ہی منبروں پر ہمارے خلاف وعظوں کے ذریعہ بھڑ کا نا شروع کیا گیا۔تقریباً روزانہ ہی ہمارے خلاف زہر اگلتے اور منافرت پھیلاتے رہے۔مخالفین میں ایک نوجوان خلیل احمد بی اے بی ٹی بھی تھے جو خوب لوگوں کو بھڑکاتے اور کہتے کہ یہ ہاتھ ناموس ختم نبوت کے لیے لوہے کے کڑے پہنیں گے ، یہ عورتوں کی طرح چوڑیاں پہننے والے نہیں۔ان ختم نبوت کے منکروں کو پاکستان سے ختم کر کے رہیں گے وغیرہ وغیر ہ۔اس پر سامعین خوب نعرے لگاتے اور