تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 99 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 99

۹۹ گئیں۔کیونکہ جب وہ باہر جائیں تو اورہائش ان کا بچھا کرتے اور تالیاں بجاتے تھے۔مقامی پولیں سب کچھ دیکھتی مگر خاموش تماشائی بنی رہتی۔رات کے وقت ایک جلسہ عام میں امیر جماعت ننکانہ صاحب محمد شفیع صاحب کی نسبت یہ بہتان تراشی کی گئی کہ ربوہ سے ایک جیپ آکر اس کو اسلحہ دے گئی ہے ابھی تلاشی لی جادے۔چنانچہ پولیس نے رات کو احمدیوں کے مکانوں کا گھیراؤ کر لیا مگر کچھ برآمد نہ ہوا۔ننکانہ صاحب اُن دنوں افواہوں کا مرکز ہوا تھا۔ایک دن افواہ پھیلائی گئی کہ جڑانوالہ کے امیر جماعت ڈاکٹر محمد انور صاحب کو چھرا گھونپ دیا گیا ہے۔دارہ برٹن کے احمدی اسٹیشن ماسٹر قتل کر دیئے گئے ایک لاکھ کا مہتھ یہ لوہ کی طرف جارہا ہے تم کا نہ کے احمدی ربوہ چلے گئے ہیں۔جو باقی ہیں وہ تھا نہ میں کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔آنبہ ، مڑ کے اور کرم پورہ میں جہاں جہاں رکتے دکئے احمدی آباد تھے وہاں وہاں نفقہ نے انتہائی صورت اختیار کر لی مگر خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت سے غیر معمولی نفرت کے سامان کر کے حفاظت فرمائی مثلاً ایک جگہ جب نرغے میں پھنسے ہوئے احمدی نے یہ کہدیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو۔احمدیت مجھ سے نہیں چھوٹتی۔تو وہاں فوراً پولیس پہنچ گئی۔حالانکہ یہ جگہ متھانہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ہوگی۔دوسری جگہ جب اشرار بڑے ارادے سے نکل آئے تو کچھ غیر احمدی شرفاء مسلح ہو کر حفاظت کے لیے پہنچ گئے اور تمام رات اُس احمدی کے گھر کا پہرہ دیا۔جناب فضل دین صاحب اس گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔، رمانہ پچ کو ۱۲ بجے سریا نوالہ دوپہر ایک مشتعل ہوم نے ان کے مکان کا محاصر کر لیا۔اور قتل وغارت کی دھمکیاں دے کہ احمدیت سے منحرف کر نا چاہا۔مگر انہوں نے بڑی جرات مندی سے کہا قتل کر نا چاہتے ہو تو قتل کر لو گھر لوٹنا چاہتے ہو تو لوٹ لو، میں احمدیت کو نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر ایک غیر احمدی معزز دوست نے بلوائیوں کو لعن طعن کی اور کہا کہ اس اکیلے احمد ی پر دباؤ ڈال رہے ہو پہلے قرب و جوار کے احمدیوں کو برگشتہ کر لو پھر اس کو بھی اہلسنت کر لینا۔اس دوران میں سورج غروب ہو گیا اور گاؤں والوں نے ان کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کر کے اعلان کر دیا کہ ہم صبح کو اس کا خاتمہ کر دیں گے یہ کہ کر شریہ چلے گئے اور فضل دین صاحب ساری رات دعاؤں میں مصروف رہے صبح ہوئی تو ان