تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 90 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 90

کر لو۔وہ کہنے لگے بیت الذکر سے باہر آؤ۔اس نے کہا کہ میں بیت الذکر سے باہر نہیں آؤں گا۔آخر تکرار کے بعد انہوں نے کہا کہ اسے قتل نہ کرو۔اس کا بائیکاٹ کردے۔اس کے اپنے چاہ سے بھی اور دیگر چاہ وغیرہ سے پانی روک دیا۔پھر اس نے موضع کھر پہ سے جہاں چوہدری محمد حسین صاحب احمدی ہیں پانی منگوانا شروع کیا۔آخر پندرہ تاریخ کو پولیس نے آکر پوری طرح اس کی امداد کی یا موضوع رہ جہاں صرف ایک ہی احمدی تھا اس کو بہت تنگ کیا گیا لیکن وہ بھی خدا کے فضل سے بالکل قائم ہے اور قائم رہے گا۔اب وہاں کی حالت درست ہے " ار موضع مین کے تو روٹے میں بھی ایک احمد می عبدالحق تھا۔اس نے بہت مردانگی دیکھائی۔دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اب وہاں بھی حالات درست ہیں۔دشمن عنصر نے معافی مانگی یہاں موضع ترمکہ متصل بڑھا گورایہ میں احمدیوں کو بہت تکلیف دی گئی اور مولویوں نے ان کو جبر احمدیت سے پھرانا چاہا۔انہوں نے بھی بزدلی سے کام لیا۔ان کے ساتھ چند ساعت کے لیے مل گئے اور مولویوں نے کہا کہ اب تمہارا نکاح دوبارہ کیا جائے گا۔جب وہ گھروں پر نکاح کے واسطے گئے تو احمدی مستورات کو دروازوں پر پایا۔مستورات نے بڑی دلیری سے کہا باہر کھڑے رہو۔اندر مت آؤ۔مولوی لوگوں نے کہا کہ تمہارے آدمی مسلمان ہو گئے ہیں۔اب تمہار سے نکاح دوبارہ کریں گے۔ہم اور کچھ نہیں کہتے۔ان نیک پہیلیوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے بلکہ مرتد ہو گئے میں اور ہمارا انکارح ان سے نہیں ہو سکتا۔مولوی اب ان کو لے جاکر کسی اور جگہ نکاح کریں۔ہم کو تو اگر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں تو بھی ہم خدا کے فضل سے احمد می ہی رہیں گی۔اس وقت ان کی بہادری کو دیکھ کر وہ احمدی مرد بھی دلیر ہو گئے۔اور مولوی لوگوں کو جواب دے دیا اب حالات بہتر ہیں یا چونڈہ چونڈہ سے چوہدری فیروز الدین صاحب انسپکٹر تحریک جدید نے یہ پورٹ بھیجی کہ در موضع چونڈہ تھا نہ پھلورہ کے حالات حسب ذیل ہیں۔گاؤں ہذا میں پچھلے دنوں بڑے زور شور سے پراپیگنڈا ہوتا رہا لیکن اب مردوں کے علاوہ مستورات کے ذریعہ بھی جیتھے جلوس کی شکل میں احمدیوں کے مکانات کے پاس آکر بیہودہ بکو اس کی جارہی ہے۔سب سے دروازے دھکے دے کر توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تمام افراد جماعت کو اس کا ہو گا مل کر