تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 84 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 84

جھے پیش کی گئی جیسا کہ میں غیرمنقسم ہندوستان میں اس عہدہ پر فائز تھا اور مجھے اس عزت افزائی کا فخر ہے کہ جو مجھے پاکستان کی تاریخ کے ایسے نازک مرحلے پر اس کی حقیر سی خدمت کرنے کا موقعہ دینے سے کی گئی ہے یا اے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل (۲۵) حضر مصلح موعود کی وضاحت فتح ۱۳۳۰ ش / ۲۵ دسمبر ۶۱۹۵۷ ) میں اسلامی مخلافت خلافتِ احمدیہ سے متعلق کا نظریہ کے زیر عنوان ایک پیر مغز مقالہ تحریر فرمایا جس میں یہ ذوقی بات بھی شامل ہو گئی کہ یہ اہل تقدیر ظاہر ہو کر رہے گی کہ کسی وقت احمدیت کی خلافت بھی موکیت کو جگہ دے کر دیکھے ہوئے جائے گی یہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو یہ نظر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصریحات اور جماعتی مسلک کے منافی معلوم ہوا اور آپ نے حضرت مصلح موعوددؓ کی خدمت میں بھی اپنی رائے عرض کر دی جس پر حضور پر نور نے موجودہ اور آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لئے حسب ذیل وضاحتی نوٹ سپر و قلم فرمایا۔اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَلَعَلَى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هى اللـ خلافت عارضی ہے یا ستقل؟ ساختی یزم مرزا منصور احمد نے میری توبہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ غالباً اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا ہے کہ خلافت کا دور ایک حدیث کے مطابق عارضی اور وقتی ہے۔یکس نے اس خط سے پہلے یہ مضمون نہیں پڑھا تھا اس خط کی بناء پر میں نے مضمون کا وہ حصہ نکال کرشنا تو میں نے بھی سمجھا کہ اس میں صحیح حقیقت خلافت کے بارہ میں پیش نہیں کی گئی۔ه اخبار سول اینڈ ملٹری گیٹ لاہورہا ہو ایچ ۶۱۹۵۲ مثا ترجمه و تلخیص) بحواله انفصال ۲۹ با مه چ ۱۹۵۲ روست گے یہ مقالہ اسلامی خلافت کا صحیح نظریہ" کے نام سے شائع شدہ ہے ؟