تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 83 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 83

۸۰ لیڈروں نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی کہ برطانیہ اور امریکہ کے وامن سے بندگی ہوئی ہے۔نیز کہا :- ہیں۔" وزیر خارجہ کا ریکارڈ یہ ہے کہ تین سال تک برطانوی سامراجیت کے سامنے سجدہ رینہ رہے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے جواب میں پہلے تو چند ایک مثالیں پیش کیں جن میں پاکستان نے بڑی بڑی طاقتوں کی سخت سے سخت مخالفت کے علی الرغم مسلم ممالک کی آزادی کے لئے حمائت کی اور ان کو مدد دی۔آپ نے کہا ان میں سے لیبیا، ایریٹیریا، سمالی لینڈا مرا کو ، ٹیونس اور انڈونیشیا بعض مثالیں ہیں۔آپ نے ان لیڈروں کو دعوت دی کہ وہ ان مشرق وسطی کے ممالک کا دور کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان ممالک کا ہر ایک انسان معترف ہے کہ جہاں کہیں بھی آزادی، حریت اور سامراجیت کے خلاف لڑائی اور نو آبادیاتی پالیسی کی مخالفت کا سوال پیدا ہوا پاکستان ہمیشہ صف اول میں رہتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ مصری برطانوی جھگڑے میں پاکستان کا موقف یہ تھا کہ کوئی ایسا فیصلہ ہو جین سے مصری عوام کی پوری پوری تسلی ہو اور جو مصر کے وقار، عزت نفس اور علوشان کے شایاں ہو۔آپ نے یہ بھی کہا کہ برطانوی ایرانی جھگڑے میں ہماری تمام جد و جہد اس اصول کے پیش نظر رہی ہے کہ اس امر کو غیر مبہم الفاظ میں تسلیم کر لیا جائے کہ ایران کو اپنی تیل کی صنعت کو قومی بنانے کا حق حاصل ہے اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ قومی بنانے کا اقدام اب منشورع نہیں کیا۔جا سکتا۔حضرت چوہدری صاحب نے برطانوی سامراجیت کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے اعتراض کے جواب میں واضح لفظوں میں اعلان کیا کہ :۔لیکن کبھی کسی کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوا خواہ کوئی حکومت ہو یا ایک بادشاہ بارعایا سوائے اس کے کہ جو شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے۔اور چونکہ میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہوں میں کسی دوسرے کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا ہے پھر فرمایا : یں نے ہرگز کبھی کسی کے پاس کسی عہدے یا مرتبے کے لئے درخواست نہیں کی۔وزارت خارجہ