تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 69 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 69

۶۶ پرانوں اور ویدوں میں موجود ہے اور نہ ایسا حکم تو رات اور انجیل میں پایا جاتا ہے؟ ب" صرف اسلام ہی ایسا نہ ہب ہے جو کہتا ہے پہلے اذان دو پھر اس طرح مسجد میں آؤ۔اذان سید میں صفوں میں کھڑے ہو جاؤ۔پھر قبیلہ کی طرف منہ کر وہ سامنے ایک امام ہو۔جو ر کرتے امامیہ سے وہی حرکت مقندی بھی کرے امام سجدہ میں جائے تو مقتدی بھی سجدہ میں پہلے جائیں امام کھڑا ہو تو مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں۔اس طرح ساری قوم امام کے تابع ہو جاتی ہے اور یہ طاقت ہٹلر میں بھی نہیں تھی کہ اس کے اشارہ سے سارے لوگ مجھک جائیں لیکن یہاں یہ بات پائی جاتی ہے کہ امام رکوع میں جاتا ہے تو سارے مقتدی رکوع میں پہلے جاتے ہیں۔امام سجدہ میں جاتا ہے تو سارے لوگ سجدہ میں پہلے بجاتے ہیں۔گو یا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ طاقت بخشی ہے جس نے اجتماعیت کی ایسی تحکم روح قائم کر دی ہے جس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔پھر حج ہے یہ خصوصیت بھی صرف اسلام میں ہے۔بیشک ہندو لوگ یا ترا کے لئے جاتے حج ج ہیں لیکن بیا تر این بیسیوں ہیں، کوئی شخص یاترا نہیں اور نہ ایسی تعلیم ہے کہ جس شخص کے پاس سرمایہ ہو۔پھر امن ہو اس کے لئے کوئی روک نہ ہو۔ایسا شخص اگر حج نہیں کرتا تو وہ گنہگار ہے یہ اجتماعیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔باقی لوگ یا ترا گئے تب بھی بزرگ ہیں اور اگر یا تراکونہ گئے تب بھی بزرگ ہیں۔زكاة کو پھر زکوۃ ہے۔اسلام میں جیسی زکوۃ پائی جاتی ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی بے شک یہودیوں میں بھی زکوٰۃ پائی جاتی ہے لیکن اس میں اتنی باریکیاں نہیں پائی جاتیں جتنی باریکیاں اسلامی زکواۃ میں پائی جاتی ہیں۔اسلامی زکوۃ کے اخراجات کو نہایت وسیع طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس میں قومی ترقی کی ہر چیز آجاتی ہے۔اس میں کلیت کا رنگ پایا جاتا ہے او یہ بات یہودی زکوۃ میں نہیں پائی جاتی۔اسلامی زکواۃ میں ہر قسم کے غرباء کا حق مقرر کر دیا گیا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس تجارت کے لئے سرمایہ نہیں تو اسلام کہتا ہے اسے کچھ سرمایہ دے دو۔ایک دردی ہے وہ درزی کا کام جانتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی مشین نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکوۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔ایک شخص کو یگہ چلانا آتا ہے لیکن اس کے پاس روپیہ نہیں تو اسلام کہتا ہے کہ زکواۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔اس طرح ایک مسافر آتا ہے وہ مالدار ہوتا ہے