تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 39
کو اس سلسلہ میں دیتی بھیجا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۲۲ جون کو میعاد میں توسیع منظور ہو کر لاہور اطلاع چلی گئی۔پاکستان حکومت کی طرف سے میعاد ۳۰ جون تک کی تھی۔وقت بہت تنگ تھا اور درویشوں کے اہل و عیال متفرق مقامات پر تھے۔ان کے جلد اور ہر وقت پہنچنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بہت ہی سعی فرمائی جو خدا کے فضل سے مشکور ہوئی۔فجزاه الله احسن الجزاء قریباً سارے دوست جن کے اہل و عیال آرہے تھے۔فون پر اطلاع ملنے پر استقبال کے لئے واہگہ بارڈر پر پہنچ گئے نظارت امور عامہ کی طرف سے انتظام کے لئے اخرویم فضل الہی صاحب مقرر تھے۔۲۸ جون کو گیارہ درویشوں کے اہل و عیال قریباً ہے 11 بجے دن سرحد پاکستان عبور کر کے سر زمین ہند میں داخل ہوئے جہاں سے لاری کے ذریعہ 4 بجے شام روانہ ہو کر قریباً دو بجے شام بٹالہ اور وہاں سے ہے۔ابجے شب بخیریت تمام قادیان پہنچے۔سٹرک کی خرابی کی وجہ سے قادیان کے راستہ میں ٹرک کمپنی گیا اس وجہ سے کافی وقت صرف ہو گیا۔جوں جوں ان کی آمدیں دیر ہوتی جاتی تھی۔درویشوں کا اشتیاق اوریش کر بڑھتا جاتا تھا اور وہ دست بدعا تھے کہ اللہ تعالیٰ قافلہ کو خیریت سے لائے۔احمدیہ چوک انند و مکان حضرت صاحبزادہ مرته اعز یز احمد صاحب) میں درویش ہلال عید کی طرح چشم براہ تھے اور قافلہ کی آمد پر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے ، لہ پشاور میں ۱۹۲۳ء سے صرف ایک احمدیہ مسجد کو میر جماعت احمدیہ پشاور کی ٹی جامع مجد تبادشاہ میں بھی اب اس سال حضرت ولیست غلام رسول صاحب رانی کی نہ ملنے سلسلہ عالمیہ احمدیہ کی تحریک پر سول کوارٹرز میں دوسری عالیشان مسجد بینی۔اس مسجد کا سنگ بنیاد حضرت مولانا صاحب نے ۲۸ ماہِ شہادت ۱۳۳۰ مش / ۱۲۸ اپریل ۶۱۹۵۷ بروزاتوار صبح آٹھ بجے رکھا بنیاد کے بعد آپ نے احادیث نبوی اور اسلامی واقعات کی روشنی میں تعمیر مسجد میں حصہ لینے کی اہمیت بتائی جس پر احمدی دوستوں نے نہایت اخلاص اور فراخدلی سے چند فراہم کیا۔یہ مسجد صوبہ سرحد کی احمدی مساجد میں سب سے وسیع مسجد ہے اور مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔له روزنامه المفضل ۲۱ وفا ۱۳۳۰ ہش / ۲۱ جولائی ۱۹۵۱ء حدث