تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 38
نہیں کیا جائے گا وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔اس مجرأت مندانہ اقدام پر حضرت خلیفہ اسیح المثانی نے درج ذیل الفاظ میں اُن کو مبارہ کباد کا پیغام دیا :۔و آپ نے دولت مشترکہ کے وزراء اعظم کی کانفرنس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے جس عزم و ثبات کا اظہار کیا ہے لیکن اس پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔اگر چہ ہماری جماعت کے نزدیک دولت مشترکہ کی رکنیت بھی اہم ہے لیکن اس کے نزدیک یقینا پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کا سوال اس سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے۔خیر سگالی کا جذبہ بیشک ایک قابل قدر اور نهایت بیش قیمت پچیز ہے لیکن اپنے ملک کے مفاد کے لئے ثابت قدمی دکھانا بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔خدا آپ کے ساتھ ہوا ملے عیال اس سال ایک لمبی جد و جہد اور انتظار دروایشان قادیان کے اہل وعیال کی واپسی کے بعد بارہ درویشوں کے اہل وعیال (جو انقلاب ہجرت کے باعث پاکستان میں آگئے تھے ، واپس قادیان جا کر آباد ہو گئے اور یہ سب ان درویشوں کے رشتہ دار تھے جو شروع سے ہندوستان کے باشند سے تھے۔ان بارہ خاندانوں مین سے ایک تو کچھ عرصہ قبل قادیان چلا گیا تھا اور باقی ۲۸ ماه احسان / جون کو واپس گئے تھے۔ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے صنعت اصحاب احمد اس واقعہ کی تفصیل میں تحریر فرماتے ہیں: ۱۹۴۸ء سے اہل و عیال کی واپسی کے لئے کوشش ہو رہی تھی بالا آخر حکومت ہند کی طرف سے پسند ماہ قبل اہل و عیال منگوانے کی اجازت ملی اور حکومت پاکستان نے بھی اس کی اجازت دیدی۔گویا دونوں حکومتوں کے اتفاق رائے سے یہ کام ہوا لیکن گزشتہ ماہ کی ابتداء میں اچانک یے وع فرما اطلاع گورنمنٹ ہند کی طرف سے آئی کہ انجازت کی میعاد گزرچکی ہے۔اس میعاد کی ادھر اور اُدھر کے منتظمین کو کوئی اطلاع نہ تھی بلکہ یہ اطلاع تھی کہ کوئی میعاد مقرر نہیں ہے۔ہر حال منسوخی کی اطلاع ملنے پر صدر انجمن احمدیہ قادیان نے مکروہ شیخ عبدالحمید صاحب عاجز اور خاکسا اه الفضل لاہور ا صلح ۱۳۳ پیش کرو جنوری ۱۹۵۱ و صدا