تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 37
۳۵ حضرت صاحبزادہ مرزا البشیر احمد صاحب ایم۔اے نے لکھا :- رسالہ الفرقان بہت عمدہ اور قابل قدر رسالہ ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی اشاعت زیادہ سے زیادہ وسیع ہو کیونکہ اس میں تحقیقی اورعلمی مضامین چھپتے ہیں اور قرآن کے فضائل اور اسلام کے محاسن پر بہت عمدہ طریق پر بحث کی بھاتی ہے۔ایک طرح سے یہ رسالہ اس غرض وغایت کو پورا کر رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مد نظر رسالہ ریویو آن ریجنز اُردو ایڈیشن کے جاری کرنے میں تھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی یہ خواہش بڑی گہری اور خدا کی پیدا کردہ آرزو پر مبنی ہے کہ اگر ایسے رسالہ کی اشاعت ایک لاکھ بھی ہو تو پھر بھی دنیا کی موجودہ ضرورت کے لحاظ سے کم ہے پس میترا و مستطیع احمدی اصحاب کو یہ رسالہ نہ صرف زیادہ سے زیادہ تعداد میں خود خرید نا چاہیے بلکہ اپنی طرف سے نیک دل اور سچائی کی تڑپ رکھنے والے غیراحمدی اور غیرمسلم اصحاب کے نام بھی جاری کرانا چاہیئے تا اس رسالہ کی غرض و غایت بصورت احسن پوری ہو اور اسلام کا آفتاب عالمتاب اپنی پوری شان کے ساتھ ساری دنیا کو اپنے نور سے منور کرے ہے دفتر حفاظت مرکز ربوہ میں دفتر حفاظت مرکز بند جو تقریبا تین برس سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نگرانی میں جو د ھائی بلڈ نگ دلی ہوئی میں قائم تھا اس سال کے آغا ز میں ربوہ منتقل ہو گیا۔اور حضرت میاں صاحب بھی اس تجدید مرکزی رہائش پذیر ہو گئے۔اس دفتر کا نام سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی منظوری سے ، رما و شہادت ۳۳۹ نہیں ر ماہ اپریل ۱۹۶۰ء کو خدمت درویشاں رکھا گیا حضور کے الفاظ مبارک یہ تھے خدمت درویشاں نام بدل دیں حضور کا یہ ارشاد اس دفتر میں زیر بے ریکارڈ شدہ ہے۔" وزیراعظم پاکسان کے نا مبارکباد کا پیغام اپ اور مودی سے لندن میں دولت م صلح / تھی۔وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل الفضل ١٨ روفا ۱۳۳۸ پیش / ۱۸ جولائی ۱۹۵۹ء جنگ + له الفضل و صلح ۱۳۳۰ مش / ۱۹ جنوری ۱۹۵۱ء مت +