تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 481 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 481

مشرقی پاکستا پوری کی ان سے مینار پاکستان کا ماموں کی تحریک پاکستان سے سے متعلق خدمات ہمیشہ آب زر سے لکھی جائیں گی۔یہ راست اقدام کی مذمت اور اس کا پس منظر نخرہ ان یا اسی خطہ کو حاصل ہے کہ اسکے ایک بها در سپوت نواب سلیم اللہ خان کی تحریک اور دعوت پر ۱۹۰۶ ء میں بمقام ڈھا کہ آل انڈیامسلم لیگ کی بنیا د رکھی گئی۔اور دوسرے مایہ ناز فرزند آنریل مولوی فضل الحق وزیر اعظم بنگال نے ۲۳ مارچ ۶۹۴۰ کے اجلاس لاہور میں قرار داد پاکستان پیش کی جس کے بعد بنگالی مسلمانوں نے پاکستان کو قائم کرنے کے لئے لا تعداد قربانیاں دیں اور باوجودیکہ احرار کے ہم خیال کا نگریسی اور نیشلسٹ علماء نے بنگال میں بھی پاکستان کی زبر دست مخالفت کی حتی کہ پاکستانی خیال کے مسلمانوں پر کفر و ارتداد اور فسخ نکاح تک کے فتوے بھی لگائے مگر انہوں نے ۱۹۴۵ - ۱۹۲۶ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں ٹوٹ ڈالے۔اُس زمانہ میں نشیلسٹ اور کانگریسی علماء کے ہاتھوں بنگالی مسلمانوں پر کیا بیتی ؟ اور پھر کس طرح یہ نام نہاد علماء اپنے سیاسی اور مذہبی حوالوں میں ناکام ہوئے ؟ اس کی تفصیل میں رسالہ طلوع اسلام کر اچھی لکھتا ہے کہ :۔مولویوں کا بہت بڑا طبقہ پاکستان کا دشمن تھا اور قیام پاکستان کے راستے میں ہر قسم کے روڑے اٹکا رہا تھا۔انہوں نے ہند و زمینداروں اور ہندو ساہوکاروں سے سازبانہ کر رکھا تھا اور کسی طرح سے بھی مشرقی بنگال کے عوام تک پاکستان کی آواز نہیں پہنچنے دیتے تھے لیکن پاکستان کی تحریک میں کچھ اس قسم کی جاذبیت تھی کہ مولویوں کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود مشرقی بنگال کے عوام تک یہ تحریک پہنچ ہی گئی۔یہ الگ بات ہے کہ وہاں کے عوام کو انگریزوں اور مہندوؤں نے اس طرح دبا رکھا تھا کہ وہ اُن کی مرضی کے خلاف ایک لفظ تک زبان سے نہیں نکال سکتے تھے۔وہاں کے سیدھے سادھے عوام پر بیک وقت تین جگر سوز طلاب مسلط تھے۔انگریز ہندو اور مولوی جس طرح ظلوم بنی اسرائیل کے سر پر فرعون، قارون اور ہامان سوار تھے۔عوام کا ایک طبقہ کسی نہ کسی طرح انگریزوں اور ہندوؤں کے شکنجہ سے تو نکل آیا لیکن وہ مولوی کے آہنی پنجوں سے چھٹکارا نہ پاسکا۔یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تاسف انگیز بات یہ تھی کہ عوام