تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 36 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 36

۳۴۲ اس نازک موقع پر مرکز احمدیت ربوہ کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کے احمدی مادر وطن کے دفاع اور اس کی حفاظت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔اس سلسلہ میں ناظر صاحب امور خارجه صدر انجین احمدیہ پاکستان نے وزیر اعظم کے نام حسب ذیل تار ارسال کیا :- پاکستانی سرحدات کے قریب ہندوستانی فوجوں کے جمع ہونے کی خبر سے افسوس ہوا ہم حکومت کو یقین دلاتے ہیں کہ قوم کے اس نازک وقت میں پاکستان کے احمد میں ہر حال میں اپنی حکومت سے پورا پورا تعاون کریں گے اور مادر وطن کے دفاع اور آپکی حفاظت کی خاطر ہر ممکن قربانی کے لئے ہر آن تیار رہیں گے لے صاحب جالندھری رسالہ الفرقان کا اجراء وسط ۱۳۳۰اہش / ۱۹۵۱ء میں مولانا ابو العالة الفرقان" پرنسپل احمدیہ نے جاری فرمایا۔اس رسالہ کے تین بنیادی اغراض و مقاصد تھے۔1 - قرآن مجید کے حسن کو نمایاں کرنا اور فضائل قرآنی بیان کرنا۔غیر مسلموں (آریوں ، عیسائیوں اور بہائیوں وغیرہ ) کے قرآن مجید پر اعتراضات کے جوابات۔۳۔اہل پاکستان میں آسمان اسباق کے ذریعہ عربی زبان کی ترویج و اشاعت۔اس رسالہ کے اولین منیجر حضرت با او فقیر علی صاحب ( والد ماجد مولانا نذیر احمد علی صاحب شہید افریقہ) مقرر کئے گئے۔یہ رسالہ چوبیس سال سے نہایت با قاعدگی اور التزام کے ساتھ چیپ رہا ہے اور اپنے بلند پایہ اور حقیقی مضامین کے اعتبار سے رسالہ ریویو آف ریلیجینز اردو کی نمائندگی کرتا ہے۔سید نا حضرت مصلح موعودہؓ کی نگاہ میں الفرقان " کو جو علمی افادی اہمیت حاصل تھی اس کا اندازہ حضور کے مندرجہ ذیل ارشاد سے بخوبی ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا :- میرے نزدیک الفرقان جیسا علمی رسالہ تیس چالیس ہزار بلکہ لاکھ تک چھپنا چاہئیے اور اس کی بہت وسیع اشاعت ہونی چاہیے " کے به الفضل ۱۸ و قاب ۱۳ ایش/ ۱۸ جولائی ۱۹۵۱ء ص به که افضل ده صلح ۱۳۳۵ اتش / د جنوری ۶۱۹۵۶