تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 471
۴۶۱ ہیں تو جناب آپ مولوی کس مرض کی دوا ہیں ؟ آپ کیوں نہیں یہ تبلیغ کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے اور مسلمان پر جہاد فرض ہے اور ان گمراہوں کو کیوں صحیح راستہ پر چلنے کی تلقین نہیں کرتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیوں نے قیام پاکستان کی شدید مخالفت کی تھی لیکن ہم مولویوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ کیا انہوں نے پاکستان کی مخالفت نہیں کی تھی ؟ کیا انہوں نے قائد اعظم اور دوسرے مخلص مسلمان لیڈروں کے مخلاف فتوے نہیں دیے تھے ؟ جب مولویوں کا دامن پاک نہیں ہے تو وہ کس منہ سے یہ ڈائریکٹ اکیشن کی دھمکی دیتے ہیں۔کیا وہ ڈائریکٹ ایکشن کے نتائج سے واقف ہیں۔کیا مسٹر سہروردی کی سول نافرمانی اور مولویوں کا ڈائریکٹ ایکشن ایک ہی چیز کی دو شاخیں ہیں ؟ ڈائریکٹ ایکشن شروع کرنے سے پہلے بعد باتی مولوی اچھی طرح سوچ لیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا یہ قدم کسی آنے والی تباہی کا پیش خیمہ ہو۔اگر ڈائریکٹ ایکشن سے پاکستان میں خونریزی اور بدامنی پھیلی تو اس کی ساری ذمہ داری حکومت پاکستان پر نہیں بلکہ ان مولویوں پر عائد ہوگی مولویوں کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ سارے ملک میں دین حق کی تبلیغ کریں اور گرا مسلمانوں کو راہ راست پر لائیں۔ان مولویوں پر مولانا حا کی مرحوم کا یہ شعر صادق آ رہا ہے ے رہے اہل قبلہ میں جنگ این باہم + که دین خدا پر ہے سارا عالم ہے پاکستان کی مرکزی کابینہ ڈائریکٹ ایکشن کو کس نگاہ پاکستان کی مرکزی کابینہ کی نظامی کے امین تھی اور طالبہ اعلی سے تعلق اس کا سے دیکھتی ؟ مطالبات اور ڈائریکٹ ایکشن انداز فکر کیا تھا؟ ان سوالات کا واضح جواب ہمیں ان بیانات کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے جو مرکزی حکومت کے تین وزراء کی طرف سے فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں دیئے گئے اور جن کا ملخص انہی کے الفاظ میں حسب ذیل ہے: جناب خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پاکستان :- نیکی نے علماء سے کہا تھا کہ ان کے مطالبات کو منظور کرنا بہت مشکل ہے اور آئین میں اگر اس کی لے ہفت روزه نگهبان (کراچی) ۲۵ فروری ۶۱۹۵۳