تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 35 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 35

۳۳ کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کر کے انہیں صیہونی حکومت کے خلاف متحد ہونے کی تلقین کرے۔چنانچہ اس پہلو پر بھی خاص زور دیا گیا۔و قد جہاں جہاں پہنچا، مقامی جماعتوں نے اس کا پُر جوش استقبال کیا اور اس سے استفادہ کرتے کے لئے عمدہ مواقع پیدا کئے۔احمدیوں کی معلومات اور قوت عمل میں اضافہ ہوا اور غیر احمدی معترزین مجاہدین کے کارناموں اور تبلیغی مساعی سے بہت متاثر ہوئے پیلے وفد میں شامل مبلغین کے نام یہ ہیں :۔ا حضرت مولانا رحمت علی صاحب نے مبلغ انڈونیشیا ( امیر وفد ) - حضرت مولانا غلام حسین صاحب آباد مبلغ سنگاپور شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ فلسطین و شام ۴۔مولوی غلام احمد صاحب میگین عدان - مولوی عنایت اللہ صاحب احمد کی مبلغ مشرقی افریقہ مولوی محمد اسحق صاحب ساقی مبلغ سپین۔ربوہ میں ٹیلیفون کا اجراء اخدا تعالی نے اپنے فضل سے ربوہ میں دینی خدمت بجا لانے کی ساری سوتین قلیل ترین عرصہ میں مہیا فرما دیں۔ریلوے لائن پہلے ہی ربوہ کے رقبہ میں سے گزرتی تھی بعد کو اسٹیشن بھی قائم ہوگیا اور اسٹیشن، ڈاک خانہ اور تار گھر گھلنے کے بعد اس سال ۲۱ مادہ ہجرت پر مٹی سے ٹیلیفون بھی جاری ہو گیا۔ربوہ سے پہلا فون امیر حمایت احمدیہ قادیان کو کیا گیا جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ کے درج ذیل الفاظ پر مشتمل تھا :- جماعت کو سلام ، بیماروں کی عیادت اور دعاؤں کی تحریک " سے ماہ و فار جولائی کے وسط میں ہندوستان کی بکتر بند فوجیں مشرقی دفاع وطن کا عہد پنجاب اور ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستانی حدود کے اتنے قریب فاصلہ پر جمع ہوگئیں کہ پاکستان کی سالمیت خطرہ میں پڑ گئی۔۳۳۰ اس ا تفصیل الفضل ۱۶ ہجرت / مئی تا هر احسان / جون میں میں ملاحظہ ہوں /جون ه الفصل ۲۳ و ۲۴ ہجرت ۱۳۳۰ ش /۲۴۰۲۳ مئی ۲۱۹۵۱ مگ +