تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 460
۴۵ " دریافت کرلی۔مغرب کے تعلیم یافتہ مسٹرد ولفانہ جو ترقی پسندانہ زرعی اصطلاحات کے مصنف بھی ہیں ان کے اور احرزار یوں مذہبی رہنماؤں کے درمیان کوئی بات مشترک تو نہ تھی البتہ سابق وزیر اعلیٰ (میاں دولتانہ) اس ایجی ٹیشن کو مرکز کے خلاف اپنے سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے ا لئے ۲۔اس دوران میں جو پالیسی اختیار کی گئی تھی وہ کمزور، الجھی ہوئی اور تذبذب پر مبنی تھی حالانکہ کراچی کے فیصلوں نے گول مول بات کی کوئی گنجائش نہیں رکھی تھی اور لاقانونی کو سختی کے ساتھ روکتا ரம் میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو ۱۶ فروری ہی کو معلوم ہو گیا تھا کہ قادیانیوں کے خلاف مطالبات کے سلسلہ میں خواجہ ناظم الدین کا موقف کیا ہے ، جب وزیر اعظم نے مسٹر دو لقانہ سے کہا تھا کہ وہ مطالبات کو منظور نہیں کر سکتے لیکن مسٹر دولتانہ کے ہاتھ میں دو پتے تھے اور وہ دو طرح کی باتیں کرتے تھے اور اب بھی انہوں نے کوئی قطعی موقف قائم نہیں کیا ہیں مطالبات اگر منظور کر لئے جائیں تو مسٹر دولتانہ اپنی حضوری باغ کی تقریر کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ انہیں ان کے مطالبات سے ہمدردی تھی اور اگر وہ مسترد کر دیے جائیں تو وہ اپنے دوسرے بیانوں کا حوالہ دے سکتے ہیں یا ہے مام سابق وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائڈ کا پارٹ ادا کیا اور پنجاب میں حکومت کے حامی اخباروں نے نفرت کی تبلیغ کی میٹر دولتانہ چاہتے تھے کہ مرکز قادیانیوں کے خلاف مطالبات کو رڈکر دے تاکہ وہ تحریک والوں کے غیض و غضب کا رخ مرکز کی طرف موڑ سکیں اور احرار سے اپنے تعلق کو اپنے سیاسی اغراض کے لئے استعمال کر سکیں۔یہ دعوئی حقائق پر مبنی ہے کہ خواجہ ناظم الدین جو اس وقت وزیر اعظم تھے علماء سے ملاقاتیں کرکےکچھ اس قسم کا تاثر پیدا کر رہے تھے کہ تحریک پر مولان جون ۱۹۵۲ء تک تحریک احرار تک محدود تھی اور یہ کہ ۱۳ جولائی سے ، ار اگست تک ختم نبوت کے روزنامہ آفاق " لاہور بم - فروری ۱۹۷۴ء مث : سے روزنامہ تخت لاہور دار فروری ۶۱۹۵۴ مت به