تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 458 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 458

۴۴۸ اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے مرکزی نمائندوں نے چوٹی کے سرکاری افسروں سے ملاقاتیں بھی کیں چنانچہ کار جولائی ۱۹۵۲ء کو علمائے سلسہ کے تبلیغی وفد کی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کا ذکر آ چکا ہے اس کے بعد جماعت کے سر بر آوردہ حضرات اور بزرگ گورنر صاحب پنجاب (۲۳ اگست ۶۱۹۵۲ و ۲۰-۲۲ فروری ۱۹۵۳) چیف سیکرٹری صاحب پنجاب (۱۳ دسمبر ۲۱۹۵۲) ہوم سیکرٹری صاحب پنجاب (۱۱۳ دسمبر ۲۱۹۵۲ - ۳۱ جنوری و ۲ فروری ۱۹۵۳) اور وزیر اعلیٰ صاحب پنجاب ۲۲-۲۰۱ فروری ۱۹۵۳ء) سے بھی ملے۔اُس دور کے جماعتی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب کے افسران سے ملاقات کرنے والوں میں حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد ، حضرت سید اللہ شاہ صاحب ، حضرت صاجزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب جیسی نماز اور اہم شخصیات بھی تھیں۔حقائق و واقعات سے باخبر ہونے کے باوجود پنجاب کی سلم لیگی وزارت نے جس قسم کا سلو کی حدوں سے روا رکھا اس کا خلاصہ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کے الفاظ میں یہ ہے کہ : احراریوں سے تو الیسا برتاؤ کیا گیا گویا وہ خاندان کے افراد ہیں اور احمدیوں کو اجنبی سمجھا گیا یہ ہے حالانکہ چیف سیکرٹری پنجاب جناب عبدالحمید صاحب تک بھی بخوبی جانتے تھے کہ ہا۔اعزاء اس نزاع میں جارحانہ انداز لئے ہوئے تھے اور احمد می صرف مدافعت کر رہے تھے تے اور مطالبہ اقلیت کی نسبت تو اُن کی دو ٹوک رائے یہ تھی کہ :- جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے اسے سلمان ہی تصور کرنا چاہئیے۔اگر پاکستان کو ایک زندہ قوم رہتا ہے تو میری رائے میں مسئلہ کا یہی واحد حل ہے۔اس رائے کو دوسرے لفظوں میں کیوں پیش کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص کلمہ طیبہ پڑھے اُسے مسلمان مکھنا چاہیئے کلمہ گوا فراد اور سلمان ہونے کے کے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء ۲۲۲۵ ت روزنامہ ملت لاہور اور جنوری ۱۹۵۴ء مت کا ظلم سے ہے۔