تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 457 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 457

۴۴۷ اور اس طرح انہیں اپنے مسلک پر لانے کی کوشش کریں لیے ترجمہ) سوویٹ روس کے ایک مورخ GANKOVSKY ۷۰۷۰)۔ایک روسی مورخ کا نظریہ ( R۔GORDON POLONSKAYA۔اپنی کتاب A HISTORY OF PAKISTAN " میں ۱۹۵۳ء کی شورش کے ضمن میں لکھتے ہیں :۔مخالف بورژوا اور جاگیر دار عناصر کے نزدیک احمدیوں کی ترقی ان کے حقوق اور مراعات پر ایک خطرے کا رنگ رکھتی تھی چنانچہ ۱۹۵۷-۱۹۵۳ء میں مذہبی بدعات کا قلع قمع کرنے کا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا۔۔مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ قادیانی جماعت مسلمانوں کی حکومت ، تجارت اور زراعت میں ایک آزاد پارٹی کی طرح ہر جگہ مخالفت کرتی تھی (قادیانی مسئلہ من) اور حقیقت میں یہی وجہ تھی جو مودودی صاحب کے لئے سردردی کا موجب تھی۔شہنشاہیت (سرمایہ داری ) کے مابین حریفانہ سرگرمیاں بھی احمدیہ جماعت کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔مثال کے طور پر جماعت اسلامی پاکستان سے امریکہ کے قریبی تعلق کی عامی تھی اور آب وہ احمدیوں کے برطانیہ سے پرانے تعلقات کی شاہ کی تھی۔احمدیوں کے خلاف ایجی کیش اُونچے بورژوا کی اس بے چینی کا اظہار بھی تھا کہ یہ جماعت انگریزوں سے پرانے تعلقات کو نیا ہے چلی جاتی ہے۔اور یہ وہ طبقہ تھا جو امریکہ کی طرف مائل تھا۔امریکہ کی کوشش بھی یہ تھی کہ برطانیہ نواز حلقے کی جگہ ایسے لوگبر سراقت دار آجائیں جو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئی۔( ترجمه وتلخیص) جماعت اسلامی کے دریا کے دار بریختا روشنی ارباب حل و عقد سے براہ راست البطہ اور ملاقاتیں ڈالنے کے بعد ہم بتاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ پاکستان کا مرکز، اس کی صوبائی شاخوں کے امراء اور دیگر فقہ دار احمدی (جو حب الوطنی کے ناقابل تسخیر جذبہ سے سرشار تھے، شورش کے ابتدائی دنوں ہی سے افسران حکومت کو خطوں اور تاؤں کے ذریعہ صورت حال سے باخبر رکھنا اپنا قومی اور ملی فرض سمجھتے تھے۔ه روز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء جواله روزنام افضل لاہور مورد دار فروری ۱۹۵۳ ز من کے صفحہ ۱۸۴۲ ( ناشر PEOPELS PUBLISHING HOUSE LAHORE)