تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 426
۴۱۶ دشمن ہیں اور دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ملک کے حقیقی خیر خواہ اور وفادار ہیں تو خود اندازہ لگاؤ کہ اس مخالفت کے نتیجہ میں ہمیں ملک کی خدمت میں کمزور ہونا چاہیے یا پہلے سے بھی بڑھ کر اس میں حصہ لینا چاہئیے ؟ جس چیز کے لئے سچی محبت اور ہمدردی ہوتی ہے اسے خطرے میں دیکھ کر تو قربانی کا جذبہ تیز ہوا کرتا ہے نہ کہ کم یا اے تیونس اور مراکش کے جانباز مسلمان ایک ڈھا تیونس اور مراکش کی تحریک آزادی کی حمایت او دعا عرصہ سے فرانس کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے موتمر عالیم اسلامی نے فیصلہ کیا کہ ۲۱ نومبر ۱۹۵۷ء کو دنیا بھر کے مسلمان یوم تیولیس و مراکش منائیں۔اس فیصلہ کے مطابق حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے بھی ان مظلوم اسلامی ممالک کے مطالبہ آزادی کی حمایت میں جیسے گئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی بخشے لیے چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ان ممالک کے حق میں پر زور آواز بلند کی جس تفصیل آپ کی خود نوشت سوانح " تحدیث نعمت طبع اول ۱۹۷۱م) صفحه ۵۶۹، ۵۷۳ میں ملتی ہے۔۱۹۵۱ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مراکش اور تیونس کے مسئلے کو ایجنڈامیں شامل کرنے کا سوال پیش ہوا تو آپ ہی کی تقریر اس موقع پر سب سے نمایاں تھی۔تقریر میں آپ نے امریکہ اور دیگر تمام ایسے ممالک کے طرز عمل کی مذمت کی جو ان مسائل کو شامل ایجنڈا کرنے کے خلاف تھے۔آپ نے جب دوران احباس فرمایا کہ اگر ان مسائل پر غور کرنے سے انکار کیا گیا تو مراکش میں قتل و خون ہو گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی نمائندہ پر ہوگی تو امریکی مندوب کا رنگ زرد پڑ گیا تے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی دعائوں، چوہدری صاحب کی کوششوں اور اہل تیونس و مراکش کی قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا اور یہ دونوں ملک ۱۹۵۶ء میں آزاد ہو گئے ہیں الفضل ۲ نبوت ۱۳۳۱ ش ص الفضل ۲۱-۲۲ - ما و نبوت ۱۳۳۱ همش : سے ملت (لاہور) ۲۲ جنوری ۶۱۹۵۴ مک ہے کے انسائیکلو پیڈیا آف بریٹین کا ایڈیشن ۱۹۷۲ زیر لفظ TUNISIA اور Morocco :