تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 417
۴۰۸ تجویز کر دیا اور دوسروں نے تائید کی۔آپ کی اسی لیاقت اور ہر دلعزیزی کا ہی نتیجہ تھا کہ اس ایسوسی ایشن کا اگلا اجلاس قادیان میں بھی منعقد ہوا اور صوبہ بھر کے ہیڈ ماسٹر اس میں شریک ہوئے اور سلسلہ کے مرکز اور اس کے عہدیداروں سے متعارف ہوئے میلے با وجود اس کے طبیعت میں اس قدر استغالی اور بے نفسی تھی کہ کسی عہدہ یا اعزاز کو قطعا قبول نہ کرتے جب تک کہ خود دعا کر کے آپ کو اس بات کا یقین نہ ہو جاتا کہ اس میں سلسلہ کی بہتری ہو گی ہے ۱- سیدہ رقیه بیگم صاحبه مرحوم کی زوجہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحت سیال ولادت ۶۱۹۱۵ء وفات ۲۱ مارچ ۲۶۱۹۴۳ ۲ رسید مسعود مبارک شاہ صاحب (حال) سیکرٹری مجلس کارپرداز بہشتی مقبره ریوه - ولادت در جون ۶۱۹۱۹ ۳- سید داؤد مظفر شاہ صاحب (داماد حضرت مصلح موعود ولادت ۲۱ نومبر ۱۹۲۱) ۴ سید مشهد د احمد شاہ صاحب (ولادت دسمبر اولاد ۱۹۴۳ء غالباً ۵ لیڈی ڈاکٹر سیدہ مریم حنا صاحبہ (ولادت ۱۹۵۲ء غالیگا، اگے مندرجہ بالا جلیل القدر صحابہ کے علاوہ بعض اور قیمتی وجود بھی داغ مفارقت دے گئے مثلاً :۔محترمہ شہر بانو صاحبہ ہمشیرہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رحمتہ اللہ علیہ (وفات ۲۵ صلح ۳۳۱ رایش پسر جنوری ۱۹۵۲ و لعمر ۹۸ سال) ۲- حضرت صاحبزادہ سید عبد السلام صاحب فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید رحمتہ اللہ علیہ روفات ۳ تاریخ ۳۳۶ پیش / فروری ۶۱۹۵۲ بعمر ۵۸ سال) ۱۳ فاطر بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت میر عنایت علی صاحب لدھیانوی (وفات ۳۳۱ امش ۲۱۹۵۲) محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔انہوں نے 1900 ء میں بیعت کی لیکن در حقیقت ان کا تعلق احمدیت سے بہت پرانا تھا۔ان کے خاوند ے یہ پراونشل ایجوکیشنل ایسوسی ایشن ۲۸ فروری تا ۲ مارچ ۱۹۳۵ء میں منعقد ہوئی تھی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد دہم م ) : ه الفضل ۲۵ فتح ۱۳۳۱هش/ دسمبر ۶۱۹۵۲ مث : سه مدفون بہشتی مقبره قادیان ( قطعه واحصہ ۲ قبرش ) : که متدرجه بالا تاریخی سید مسعود مبارک شاہ صاحب کی ایک یادداشت سے استاد کی گئی ہیں ؟