تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 416
بے سر و سامانی اور مشکلات کا مقابلہ کیا اور احباب اور طلباء کی رہبری فرمائی یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ چنیوٹ میں ہمارے قدم جم گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سکول نے چنیوٹ کے پرانے سکولوں سے بھی زیادہ ناموری اور عزت حاصل کر لی اور آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر غیر احمدی افسران اور معززین نے اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کر وا دیا اور یہ سلسلہ آج تک زیورہ میں بھی قائم ہے۔غیروں میں مقبول ہو جانا اور ان پر اپنے اخلاق کا سکہ بٹھا دینا شاہ صاحب کا ہی خاصہ تھا۔انسان کی زندگی کے بعد تو اخلاق کا تقاضا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ ہم ہر انسان کو اچھا ہتی تھیں اور صرف اس کی خوبیوں کا ہی تذکرہ کریں اور عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے لیکن شاہ صات کا وجود ایسا تھا کہ اپنے اور غیر سبھی آپ کی زندگی میں ہی آپ کے مدارج تھے چنانچہ چنیوٹ کے غیر احمدی بھی جن کو آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور آپ کی زندگی میں ہی آپ کے نہایت تواضع اور محبت سے ملتے تھے چنانچہ چو ہدری عبد الرحیم صاحب کار کی ہے نے ذکر کیا کہ وہ ایک روز ایک کام کے سلسلہ میں چنیوٹ تحصیل میں گئے آپ کا ذکر خیر آیا تو وہاں کے خزانچی صاحب نے کئے اپنے ایک غیر احمد کی ساتھی سے کہا کہ یہ شاہ صاحب کی بات ہے۔اس نے پوچھا کو نسے شاہ صاحب ! ان صاحب نے تعجب سے کہا سید محمود اللہ شاہ صاحب ! آپ ان کو بھی نہیں جانتے وہ تو فرشتہ ہیں فرشتہ !! الغرون کوئی شخص خواہ جماعت اور سلسلہ کا کتناہی مخالف کیوں نہ ہو آپ کے اخلاق اور اخلاص کا معترف بلکہ مداح تھا اور سلسلہ کی اس طرح بلکہ بلا واسطہ تبلیغ جس خوبی اور احسن طور پر آپ کے وجود سے ہوئی اس کا اجر ہمیشہ آپ کو ملتا رہے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ بہت خوش گفتارا اور جہاندیدہ تھے۔ہم جلیس پر چھا جاتے محمد تعلیم کے انسپکڑ اور دیگر افسران جن سے تعلیم والے عام طور پر مرعوب ہوتے ہیں وہ خود شاہ صاحب کی مجلس میں بجائے باتیں سنانے اور مجلس پر چھانے کے ان کی طرف توبہ کرتے اور ان سے باتیں سننے پر مجبور ہوتے۔ایک دفعہ متحدہ پنجاب کے زمانہ میں صوبہ کے ہیڈ ماسٹروں کی لدھیانہ میں ایک کا نفرنس ہوئی آپ بھی اُس میں شامل ہوئے محترم میاں عبد الحکیم صاحب ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول لاہور آپ کو طالب علمی کے زمانہ سے ہی جانتے تھے، با وجود غیرانہ جماعت ہونے (کے ، آپ کو دیکھتے ہی صدارت کے لئے آپ کا نام ہ اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور دار الصدر بشرتی ربوہ میں رہائش پذیر ہیں ؟