تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 415
مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب جھوٹی ہیں۔اسے (سال انتظامی اور تدریسی کارناموں پر ایک نظر مہنیے امریکہ نے آ کی وفات پر آپ کے آٹھ سالہ کامیابیہ، تدریسی دور کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا: لله محترم سید محمد اللہ شاہ صاحب نے اکتوبر ۱۹۴۴ء میںتعلیم الاسلام ہائی سکول کا ایسے وقت میں چارج لیا جبکہ سکول کے سٹاف میں وہ بیگانگت اور ہم آہنگی موجود نہ تھی جو ہمارے مرکزی سکول کا طرہ امتیاز ہونی چاہیئے تعلیمی حالت اگر نا گفتہ بہ نہیں تو معیار سے گرمی ہوئی ضرور تھی۔اساتذہ کو آپس میں مربوط کرنا، ان کی صلاحیتوں کو خالصہ سکول کے لئے مخصوص کرنا، سکول کی گرتی ہوئی تعلمی حالت کو سنبھالنا مسلسلہ سے طلباء اور اساتذہ کو کما حقہ وابستہ رکھنا، قوم کا ایک مفید اور کار آمد وجود نباتا اور اغیار کی نظروں میں باوقار بنانا یہ وہ امور تھے جن کی تکمیل کے لئے محترم سید محمود اللہ شاہ صاحب کا تقرر عمل میں لایا گیا اور اس سلسلہ میں بحیر العقول کامیابی آپ کو حاصل ہوئی۔اس سات سال کے مختصر عرصہ میں آپ نے سکول کو جس قدر بلندی اور کمال تک پہنچا دیا وہ آپ کی خداداد قابلیت پر دال ہے۔اسی پرانے سٹاف سے کام لے کر آپ نے سکول کو اس قدر اجاگر کیا کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا اسکول پنجاب کے چوٹی کے سکولوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ مقدار، فیصدی اور کیفیت کے لحاظ سے اپنے آپ کو بہترین ثابت کر چکا ہے۔پچانوے چھیانوے فیصدی نتیجہ دکھلانا اور یونیورسٹی میں پہلے سات طلباء میں سے چار طلباء پیدا کر دنیا آپ کی ہی علمی نگرانی اور خداداد قابلیت کا نتیجہ ہے مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے سکول میں کام کرتے ۲۳ سال ہو چکے ہیں۔میرے سارے عرصہ ملازمت میں افسران تعلیم نے سکول کے متعلق ایسی اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا جس کا انہوں نے گذشتہ سال زبانی اپنی تقریروں میں اور تحریراً لاگ بک میں کیا اور یہ شاہ صاحب کی مساعی اور دعاؤں کا نتیجہ ہے یا لے ہجرت کے بعد لاہور سے ہوتے ہوئے جب ہم چنیوٹ میں آئے تو اساتذہ اور طلباء کی مجموعی تعداد صرف ۳۴ تھی ادھر سے اُدھر سے احمدی طلباء ملا کر ہم نے پینیوٹ میں سکول کو الہ کی تعداد سے شروع کیا تھا جس میں اساتذہ بھی شامل تھے۔ابتداء میں جس طرح خندہ پیشانی سے آپ نے ے یہاں سہواً نومبر ۱۹۴۵ء لکھا گیا تھا ہے کے روزنامه افضل لاہور مورخہ ۲۴ فتح ۳۳۱ امش / دسمبر ۱۹۵۲ء مث۔