تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 414
۴۰۵ اور عبد الغفور صاحب نے یونیورسٹی میں بالترتیب تیسری، چھٹی اور ساتویں پوزیشن حاصل کی لیے اس شاندار نتیجہ پر سیدنا حضرت مصلح موعود نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: انگریزی تعلیمی اداروں میں سے تعلیم الاسلام ہائی سکول نہ بوہ پہلا ادارہ ہے میں نے ایک ایسا ریکارڈ قائم کر دیا ہے جو گذشتہ پچاس سال سے جب سے سکول قائم ہوا ہے قائم نہ ہو سکا۔۔۔۔احمدی بچوں کا اول، سوم، ششم اور مفتم آنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہمارے بچے پروگرام کے مطابق تعلیم و تربیت حاصل کریں تو تعلیمی میدان میں بازی لے جا سکتے ہیں۔اتھے شاہ صاحب کے دور میں ملتان ڈویژن کے انسپکٹر آف سکولز سکول میں تشریف لائے اور اس ادارہ کے بلند معیار ٹیلی سے بہت متاثر ہوئے اور ریمارکس دئے کہ ہمارے نزدیک یہ سکول ایک مثالی کو ہے جس میں بچوں کی گی اور اسلامی ان میں تربیت کی جاتی ہے اور اس کے سادہ بھی مفتی اور فرض شناس ہیں یہ تعلیم الاسلام ہائی سکول نے حضرت شاہ صاحب کے عہد میں تعلیمی رنگ میں ہی نہیں اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی بہت ترقی کی سکول میں فوجی ٹرینینگ اور طلبہ کی طبی امداد کے انتظامات ہوئے، ادبی اور ملی مجالس معرض وجود میں آئیں۔بزرگان سلسلہ کی تقاریر کے علاوہ بیرونی ممالک سے آتے اور جانے والے مجاہدین احمدیت کے اعزاز میں تقاریب منعقد کی گئیں جن سے تحریک احمدیت کے بارہ میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور قوم کے نونہالوں کو ایک پاکیزہ اور خالص اسلامی ماحول میں پروان چڑھنے کے مواقع میسر آئے۔آپ کے دور کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ سر پر ٹوپی رکھنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا لیہ کا قومی شعار بن گیا تھا یہ له الفضل ۱۷ ہجرت ۱۳۳۱ پیش ملت ، رپورٹ سالانہ صدر انجین احمدیه ۱۹۵ - ۶۱۹۵۲ م ، منگا ؟ سے حضرت مصلح موعود نے ۲۵ رما و ہجرت ۱۳۳۱ پیش مئی ۱۹۵۲ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ایک ٹی پارٹی میں خطاب کیا مندرجہ بالا الفاظ حضور نے اسی تقریب پر ارشاد فرمائے تھے را متل تیم احسان اس انہیں ملے کے رپورٹ سالانہ صدر الیمین احمد یه سالی ۱۹۵۱ - ۱۹۵۲ء ص ۲، ص ۳ کے رپورٹ سالانہ صدر ایمین احمدیه سال ۱۹۵۱ - ۱۹۵۲ء صدا ، ما۔