تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 397
۳۸۸ آپ کے والد ماجد مولوی محمد دین صاحب بوتالہ ضلع گوجرانوالہ کے خطیب اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ولی معتقد تھے یہ ۱۸۹۹ء کے اوائل میں حضرت اقدس علیہ السلام نے اُن کے پاس تعطیل جمعہ کا میموریل کے مع فارم بھجوایا جس کو انہوں نے خطبہ جمعہ میں سنایا اور حضور کی اس خدمت اسلامی کی بہت تعریف کی۔جنوری ۱۹۰۱ء میں آپ نے حضرت مہدی موعود علیہ السّلام کے خلاف ایک اشتہار قبول احمد تیت شنا مطالعہ سے معلم ہوا کہ کا ازالہ اوہام کی عبارتوں کا مفہوم بگاڑ کر یہیں کیا گیا ہے۔ابھی آپ تحقیق احمدیت کے اس ابتدائی مرحلہ ہی میں تھے کہ عوام نے مشہور کر دیا کہ آپ احدی ہو گئے ہیں۔چند روز بعد ایک اہلحدیث عالم نے علماء زمانہ کا شہروں سے مصدقہ فتولی شنا کر گاؤں والوں سے آپ کا مقاطعہ کرا دیا اور آپ بوتالہ سے بھیرہ تشریف لے آئے۔بائیکاٹ کا مقصد تو آپ کو حق سے محروم رکھنا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اسی کے دوران اپنے جدائی برحق کی صداقت ایک رویا میں کھول دی اور آپ نے 19 فروری ۱۹۰۱ء کو بھیرہ سے بعیت کا خط لکھ دیا۔ایک ہفتہ بعد الحکم ۷ ار فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ پر آپ کا نام مبالعین کی فہرست میں چھپ گیا اور حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی قادیانی کے ہاتھ سے لکھا ہوا یہ خط بھی پہنچا کہ " آپ کا بیعت نامہ حضرت کی خدمت میں سنایا گیا۔حضور نے بیعت کو منظور فرمایا ہے اور استغفار اور درود شریف کی مداومت کا ارشاد فرمایا ہے" بھیرہ میں آپ نے بیعت کے بعد پٹوار کا امتحان پاس کیا۔۳۔فروری ۱۹۰۲ء کو چاوه خدمات دینی حلقہ بھیرہ کے پٹواری بنے اور دوسرے مقامات کے علاوہ سوات میں بھی رہے اور چر ایسے عرصہ تک سرگودہا میں تعینات کئے گئے اور ۲۹ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو اہلمد کی اسامی سے ریٹائرڈ ہوئے۔دوران ملازمت آپ قول و عمل سے پیغام احمدیت پھیلانے میں سرگرم عمل رہے۔جماعت احمدیہ ه وفات از مارچ ۱۸۹۶ء۔قبر بوتالہ کی خانقاہ کے احاطہ میں ہے: سه تار یخ احمدیت جلد دوم من ۳، ص ۳۵ میں اس میموریل کا ذکر آچکا ہے : ے اس پر بچہ نہیں آپ کا نام و پتہ یہ درج تھا، محمد عبد اللہ صاحب خوشنویس بوتالہ سردار جھنڈا سنگھ گوجرانوالہ حالی بھیرہ :